سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 379 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 379

336 مگر دوسرے لوگوں کی موجودگی سے شرما جاتا تھا۔آخر ایک وقت خلوت کا مل گیا اور میں نے امتہ الحئی سے کہا امتہ الحئی ! تم اس قدر فکر کیوں کرتی ہو اگر میں زندہ رہا تو تمہارے بچوں کا خیال رکھوں گا اور اِنْشَاءَ اللهُ انہیں کوئی تکلیف نہ ہونے دونگا۔میں نے ان کی تسلی کے لئے کہنے کو تو کہہ دیا مگر سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں۔آخرامہ الحئی کی وفات کی پہلی رات میں نے مریم سے کہا مریم! مجھ پر ایک بوجھ آپڑا ہے کیا تم میری مدد کر سکتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی ہزار ہزار برکتیں ان کی رُوح پر ہوں وہ فوراً بول پڑیں ہاں میں ان کا خیال رکھوں گی جس طرح ماں اپنے بچوں کو پالتی میں ان کو پالوں گی اور دوسرے دن قیوم اور رشید کو لا کر میں نے ان کے حوالے کر دیا۔نہ انہیں اور نہ مجھے معلوم تھا کہ ہم اس وقت ان کی موت کے فیصلہ پر دستخط کر رہے تھے۔مجھے امتہ الحئی بہت پیاری تھی اور پیاری ہے مگر میں دیانتداری سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر وہ زندہ رہتیں تو اس طرح اپنے بچوں کی بیماری میں ان کی تیمار داری کر سکتیں جس طرح مریم بیگم نے ان کے بچوں کی بیماریوں میں ان کی تیمارداری کی۔۔۔میں نے ان سے اس وقت وعدہ کیا کہ مریم ! تم ان بے ماں کے بچوں کو پالو اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کروں گا اور میں نے خدا تعالیٰ سے رو رو کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی محبت میرے دل میں پیدا کر دے اور اس نے میری دعا سن لی۔میں نے اُس دن سے ان سے محبت کرنی شروع کر دی ان کی طرف سے سب انقباض دل سے نکل گیا اور وہ میرے دل پر متسلط ہو گئیں ان کی وہی شکل جو میری آنکھوں میں چھتی تھی اب مجھے ساری دنیا میں حسین ترین نظر آنے لگی اور ان کا لاابالی پن جس پر میں بُرا منایا کرتا تھا اب مجھے ان کا پیدائشی حق معلوم دینے لگا۔جمعہ کے دن اگر کسی خاص مضمون پر خطبہ کا موقع ہوتا تھا تو واپسی پر میں اس یقین سے گھر میں گھستا تھا کہ مریم کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ جاتے ہی تعریفوں کے پل باندھ دیں گی اور کہیں گی کہ آج بہت مزا آیا اور یہ قیاس میرا شاذ ہی غلط ہوتا تھا۔میں دروازے پر انہیں منتظر پا تا خوشی سے ان