سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 378 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 378

335 کیا تھا ایک ماتم کدہ تھا۔دعاؤں میں سب کی چھینیں نکل رہی تھیں اور گریہ وزاری سے سب کے رخسار تر تھے۔آخر ۲۱۔فروری ۱۹۲۱ء کو نہایت سادگی سے جا کر میں مریم کو اپنے گھر لے آیا۔اور حضرت اماں جان ) کے گھر میں اُن کو اُتارا جنہوں نے ایک کمرہ اُن کو دے دیا جس میں ان کی باری میں ہم رہتے تھے۔۔۔شادی کے ابتدائی ایام میں وہ سخت دبلی پتلی ہوتی تھیں اور شکل میں بعض ایسے نقص تھے جو میری طبیعت پر گراں گزرا کرتے تھے اسی طرح وہ ٹھیٹھ پنجابی بولتی تھیں اور مجھے گھر میں کسی کا پنجابی بولنا زہر معلوم ہوتا ہے۔ان کی طبیعت ہنسوڑ تھی وہ مجھے چڑانے کے لئے جان کر بھی اردو بولتے ہوئے پنجابی الفاظ اس میں ملا دیا کرتی تھیں۔۔۔جب میں انگلستان گیا ہوں تو امتہ الحئی مرحومہ اور ان کی باہمی لڑائی کی وجہ سے میں ان سے کچھ خفا تھا مگر مجھے واپس آ کر معلوم ہوا کہ غلطی زیادہ امتہ اکئی مرحومہ کی تھی اس خفگی کی وجہ سے سفر کے پہلے چند روز میں نے مریم کو خط نہ لکھا مگر اَلحَمدُ لِلهِ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جلد سمجھ دے دی اور میں نے ان کو ناجائز تکلیف میں پڑنے سے بچالیا۔اٹلی سے میں نے ان کو ایک محبت سے پُر خط لکھا جسے انہوں نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا اس میں ایک شعر تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ روم اچھا شہر ہے مگر تمہارے بغیر تو یہ بھی اُجاڑ معلوم ہوتا ہے۔اتفاقاً ایک دفعہ اس شعر کا ذکر ۱۹۳۰ء میں یعنی سفر ولایت کے سات سال بعد ہوا تو وہ جھٹ اُٹھ کر وہ خط لے آئیں اور کہا کہ میں نے وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے یہی شعر میں نے امتہ اکئی مرحومہ کو بھی لکھا تھا خدا کی قدرت یہ دونوں ہی فوت ہو گئیں اور روم کی جگہ اس دنیا میں مجھے ان کے بغیر زندگی بسر کرنی پڑی۔بہر حال جب میں انگلستان سے واپس آیا اور آنے کے چند ہی روز بعد امتہ الحئی فوت ہو گئیں تو ان کے چھوٹے بچوں کا سنبھالنے والا مجھے کوئی نظر نہ آتا تھا ادھر مرحومہ کے دل پر ان کی وفات کے وقت اپنے بچوں کی پرورش کا سخت بوجھ تھا۔کبھی وہ ایک کی طرف دیکھتی تھیں اور کبھی دوسرے کی طرف مگر اس بارہ میں میری طرف نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھتی تھیں شاید بجھتی ہونگی مرد بچوں کو پالنا کیا جانیں میں بار بار اُن کی طرف دیکھا تھا اور کچھ کہنا چاہتا تھا