سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 366
322 ہو نگے ) ضرور اماں جان کے صحن میں آتے مجھے اٹھاتے کوئی پھل ٹھنڈا، آلو بخارا آڑو وغیرہ خود بھی کھاتے اور مجھے بھی دیتے۔کبھی اوپر کی باری ہوتی تو چوبارے کی دیوار کے پاس کھڑے ہو کر بھی پکارتے اور اوپر سے پھل پھینکتے۔بابی یا مشغله عطر اور خوشبو آپ کو پسند تھی اکثر سامان منگا کر خود تیار کرتے۔جب میں آتی خاص نمونے تیار کرتے اور پہلے بھی دکھاتے۔اتنا عطر مجھے دیا ہے کہ اس وقت منگوانے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔مجھے بھی خوشبو پسند ان کو بھی ملتے ہی عطر کا ذکر ضرور فرماتے اور لاکر دیتے تھے۔میرے میاں کی وفات کو۵ ، ۷ روز گزرے تھے میں لیٹی ہوئی تھی بستر پر۔حضرت اماں جان میرے پاس ہی تشریف رکھتی تھیں آپ آگئے اور حسب عادت جلدی سے عطر کی شیشی کھول کر مجھے لگا دیا۔حضرت اماں جان گھبرا کر بولیں میاں یہ کیا کیا ؟ عطر لگانا اِن دنوں ٹھیک نہیں۔(بوجہ ایام عدت ) جس طرح انہوں نے مجھے دیکھا اور پشت پھیر کر جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئے وہ درد بھری نگاہیں میں بھول نہیں سکتی۔پھر کمرے میں نہیں آئے باہر سے ہی رخصت ہو گئے۔میرا پیارا بھائی اپنے رتبہ اور مقام اور قرب الہی کی وجہ سے تو تھا ہی ایک بندہ خاص مگر بھائی ہونے کے لحاظ سے بھی وہ ایک بیش بہا ہیرا تھا جس کا بدل نہیں۔کئی بار مجھے کچھ دقت پیش آئی پارٹیشن سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔جب اظہار کیا فوراً شرح صدر سے بلا توقف مالی امداد بھی کی۔جب ان کا وقتِ رخصت قریب آ گیا تو میرے حالات بھی بدل گئے الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ اب کوئی ایسی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔لطائف بھی سنایا کرتے اور ملنے پر تازہ لطیفے خواہ بچوں کے تماشے ہوں ضرور میرے سنانے کو جمع ہوتے۔طبیعت میں مزاح بھی تھا اور کاموں سے تھک