سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 358
314 ہے ( شاید خواجہ صاحب کا نام لیا تھا جہاں تک مجھے یاد ہے ) آپ بتائیں پھر شاید باہر سے بھی کوئی صاحب کیونکہ پردہ کے پیچھے کھڑے ہو کر ہی حضرت اماں جان نے فرمایا تھا کہ مولوی صاحب ہی مناسب ہیں۔پھر بیعت ہوگئی زنانہ میں حضرت اماں جان کے صحن میں ہی جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت اماں جان نے بیعت کی تھی۔میں اُس وقت نہ معلوم کیوں شرما گئی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت شاید دو ڈھائی سو دفعہ تو کر چکی تھی جب عورتوں کی بیعت ہوتی میں ضرور آپ کے پاس بیٹھ کر الفاظ بیعت تمام دُہرایا کرتی تھی اب تک آپ کا بیعت لیتے وقت کا بولنے کا طریق میرے کانوں میں گونجتا ہے۔خیر میں نے اُس وقت بیعت نہیں کی پھر خیال ہی نہ رہا پتہ نہیں کیوں یہی سمجھا بیعت ہی بیعت ہے شادی رخصتانہ کے بعد میں نے میاں سے کہا کہ میں نے تو اب تک خاص بیعت حضرت خلیفہ اول کی کی ہی نہیں تو انہوں نے جب خلیفہ اول تشریف لائے تو ان کو بتایا کہ انہوں نے بیعت نہیں کی ابھی بیعت لے لیں حضرت خلفیہ اول نے بیعت لی۔میں نے کہا مجھے یاد ہی نہیں رہا تھا سمجھی بس کر چکی ہوں۔خلافت اولیٰ کی ابتداء میں ہی گندے عناصر نے بعض قلوب میں جگہ پالی تھی جس کی وجہ انسان کے لئے مرض مُہلک بد گمانی “ اور مرض قاتل حسد (ناحق) کے سوا کچھ بھی نہ تھی۔اندر ہی اندر بعض لوگ گویا خلیفہ کا انتخاب کر کے اور قیام خلافت پر اپنی منظوری کی مہر لگا کر اور ہاتھ کٹوا بیٹھنے پر پچھتا رہے تھے۔میری اپنی قطعی رائے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے وقت کی ایک اس خاص وجود ( یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی) کی باتیں اور کلام بالعزم سن کر بھی کچھ زیادہ پہچان لیا تھا کہ : - بالک سرش ز هوشمندی می تافت ستاره بلندی اور فوراً اس سوچ اور پریشانی میں گرفتار ہو گئے کہ یہ بچہ نہیں اس کے تو