سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 324 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 324

290 کے لالچ اور رعب و داب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حضور سے بائیکاٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔حضور نے بھی اسکے اقدام کی قدر کی اور اسکو اپنے آبائی مکان کا ایک حصہ دے دیا تھا۔۔۔۔۔۔اس واقعہ کا دُہرانا تھا کہ حضور کی آنکھوں میں وہ زمانہ پھر گیا اور آپ نے اس سے خواہش کی کہ گو اس کا لڑکا غیر احمدی ہی ہے لیکن اس سے کہا جائے کہ وہ میرے لئے بھی روٹی اپنے ہاتھ سے پکائے چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور ایسا ہی ہوا اور احمدیت کے اس جلیل القدر خلیفہ نے اس کرم دین کے بیٹے غلام احمد صاحب کے ہاتھ سے پکی ہوئی روٹی کھائی جس کے باپ نے کبھی احمدیت کے شیدائی اور آپکے اُستاد سے مصائب کے دور میں وفا کی۔دو نفل شکرانہ کے ادا کرنے کے بعد امیر مقامی کی استدعا پر مسجد میں سنگ مرمر کا ایک یاد گار کتبہ نصب فرمایا۔اسکے بعد حضور حضرت خلیفہ اول کا مطب دیکھنے تشریف لے گئے۔مکان سے مطب تک جانا بھی معنے رکھتا تھا بچے ، بوڑھے ، جوان پروانوں کی طرح گرتے پڑتے تھے۔مستورات دور و یہ چھتوں پر سے پھول اور ہار برسا رہی تھیں، راستے پر مختلف موڑوں پر دروازے نصب تھے جن پر سنہری حروف میں اَهْلاً وَ سَهْلاً وَ مَرْحَباً لکھا ہوا تھا اور فضا ہر دومنٹ کے بعد اسلام زندہ باد ( حضرت خلیفۃ المسیح الثانی) زندہ باد کے پُر جوش نعروں سے گونج اٹھتی تھی الغرض ایک عجیب با برکت سماں تھا جس نے عقیدتوں کو پر لگا دیے تھے۔“ حضور نے اپنی تقریر میں بھیرہ سے روحانی اور جسمانی تعلق کے ذکر میں فرمایا :- بھیرہ والوں کیلئے تو بھیرہ صرف اینٹوں ، چونے اور گارے کا بنا ہوا ایک شہر ہے لیکن میرے لئے وہ اسکے علاوہ مولد ومسکن ہے میرے شفیق استاد کا جس نے مجھے نہایت محبت کے ساتھ قرآن کریم اور بخاری کا ترجمہ پڑھایا۔پھر بھیرہ والوں کے لئے شاید اسلئے عزیز ہو کہ انہوں نے بھیرہ کی ماؤں کی چھاتیوں سے دودھ پیا لیکن میرے لئے اسلئے باعث محبت وکشش ہے کہ میں نے اس خطہ زمین کے ایک مقتدر شخص کی زبان سے قرآن کے معارف