سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page iii of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page iii

چنانچہ الہی نوشتہ کے مطابق ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو پسر موعود کی ولادت باسعادت ہوئی۔آپ کی تربیت مسیح الزمان کی مقبول دعاؤں کے زیر سایہ حضرت اماں جان کی گود میں ہوئی اور پھر خدائی تقدیر نے آپ کو ۱۹۱۴ ء میں خلافت کی خلعت سے سرفراز فرمایا۔آپ کے باون سالہ دورِ خلافت میں وہ تمام پیشگوئیاں تفصیل کے ساتھ پوری ہوئیں جن کا اجمالی ذکر پیشگوئی پسر موعود میں کیا گیا تھا۔حضرت مصلح موعود کی سیرت مبارکہ کا احاطہ کرنا سہل نہیں ہے۔سوانح فضل عمر جلد پنجم میں آپ کی سیرت کی چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ۵۶۵ صفحات پر مشتمل اس جلد میں سیرت مصلح موعود کے نمایاں پہلوؤں کی بعض مثالیں دی گئی ہیں۔جن میں محبت الہی ، عشق رسول، قبولیت دعا، مخالفوں سے حسن سلوک ، آپ کا علمی ذوق تبلیغ دین، تربیت کے انداز ، خدمت خلق ، محنت کی عادت۔عائلی زندگی اور زندگی کے بعض دوسرے دریچے کھولے گئے ہیں۔آپ کی حیات مبارکہ اور سیرت طیبہ احباب جماعت کے لئے روشنی کا مینار ہے۔جس سے ہم اپنی منزل کا تعین کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشعل راہ سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی سیرت کے نور سے ہمارے سینے روشن کر دے۔آمین خدا کرے کہ ہم حضور کی بیش قیمت نصائح ، خدمت دین کے اہم کارنامے، جماعت کی بہبود و ترقی کے عظیم منصوبے، حضور کی جاری فرمودہ انقلابی تدابیر، اصلاحی و رفاہی امور اور قومی ترقی کے دور رس پروگراموں کو ہمیشہ یادرکھیں اور ان پر دل و جان سے عمل کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں اور حضور کی دعاؤں سے بہرہ مند ہوتے رہیں۔آمین میری تو حق میں تمہارے یہ دعا ہے پیارو اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو ظلمت رنج وم و ورد ނ محفوظ رہو ہو مهر انوار درخشندہ رہے شام نہ اس جلد کی تیاری کے سلسلہ میں خاکسار بہت سے بزرگ دوستوں کا احسان مند ہے سب سے پہلے مؤلف کتاب ہذا محترم مولانا عبد الباسط صاحب شاہد کا دلی شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے نہایت محنت ، اخلاص ، دلی جوش و جذبہ سے اس عظیم کام کو سرانجام دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش