سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 262
239 قابل ہو سکوں تو اس مد میں ادا کر دوں۔اس رقم کو ملا کر تین لاکھ ستر ہزار بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ رقم جمع ہو جائے گی ، کچھ سرمایہ پہلے سے اس مد میں فروخت کتب سے حاصل ہو چکا ہے اسے ملا کر قریباً چار لاکھ روپیہ کا سرمایہ ہو جاتا ہے۔جب کمپنی جاری ہو تو اس وقت ایک لاکھ کے حصے اگر صاحب توفیق احباب خرید لیں تو پانچ لاکھ سرمایہ ہو جائیگا۔اور یہ اتنا بڑا سرمایہ ہے کہ اس سے اعلیٰ درجہ کا پر لیں اور کافی کتب شائع کی جاسکتی ہیں سر دست میں اس غرض کے لئے چار لاکھ سرمایہ کی ہی اجازت دیتا ہوں اگر ضرورت پڑی تو بعد میں اس رقم کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔جب اس کمپنی کی وجہ سے آمد شروع ہوگئی تو چونکہ خلافت جو بلی فنڈ کے روپیہ پر اس کی بنیا درکھی گئی ہے۔اس لئے آمد کے پیدا ہونے پر اس کا ایک حصہ وظائف میں بھی جاسکتا ہے۔اب رہ گئی تحریک جدید کی چار لاکھ روپیہ کی کمپنی۔۔۔۔۔اس کمپنی کے سرمایہ کے لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے غیر زبانوں میں تراجم کا کام چونکہ اس کا ایک حصہ ہے اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ تراجم قرآن کا دو لاکھ روپیہ اس کمپنی کو دیدیا جائے وہ تراجم بھی یہی کمپنی شائع کرے اور اس کے علاوہ دوسرا لٹریچر بھی یہی کمپنی شائع کرے۔باقی دو لاکھ روپیہرہ گیا اس کے لئے میرے ذہن میں ایک اور صورت ہے۔وہ ایسی نہیں کہ فوری طور پر رو پیل جائے لیکن بہر حال اگر کوشش کی جائے تو مجھے امید ہے دولاکھ روپیہ ہمیں مل جائے گا اس کے لئے ایک زمین کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔جو مجھے کسی دوست نے تحفہ کے طور پر پیش کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تحفہ بھی اس طرف منتقل کردوں۔“ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحه ۱۰۴ تا ۱۰۸) لاکھوں روپیہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں پیش کر دینا اور انجمن کی طرف سے ملنے والے گزارے کی معمولی رقم کو بھی اپنے اوپر قرض سمجھنا اور اسے واپس کرنا یقیناً ایسی مثال اور نمونہ ہے جو جماعت کو اور زیادہ مالی قربانی پر اُبھارتا ہے۔اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر دوسرے مذہبی لیڈروں اور علماء سے مقابلہ کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا کیونکہ قومی اموال مختلف حیلوں سے بٹورنا اور بے دریغ ذاتی استعمال میں لانا ایک ایسا کھلا راز ہے جس کی تفصیل میں جانے کی کوئی