سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 249 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 249

226 بے شک ایک حد تک اسلام نے اس امتیاز کو قائم رکھا ہے مگر اسلام اس بات سے منع کرتا ہے کہ امیر اپنی الگ گدی بنالیں اور غریبوں کے ساتھ حقارت سے پیش آئیں۔یہ نہایت خطرناک چیز ہے اور اس سے ایمان تک انسان کے دل سے نکل (الفضل ۸۔فروری ۱۹۳۶ء صفحه ۱۳) ۱۹۵۴ء کے ہولناک سیلاب میں حضور کی نگرانی اور ہدایات کے مطابق مجلس خدام الاحمدیہ لاہور نے بیش قدر خدمات سرانجام دیں۔حضور خود بھی سیلاب زدہ علاقوں میں تشریف لے گئے اور مصیبت زدگان کی ڈھارس بندھائی اور موقع پر مدد کرنے کی ہدایات جاری فرمائیں۔اخبار الفضل کی سکتا ہے“ مندرجہ ذیل رپورٹ دلچسپی سے پڑھی جائے گی۔لا ہور یکم نومبر :- سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے کل صبح مقامی جماعت اور مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کے بعض عہد یداروں کے ہمراہ لاہور کے ان بارش زدہ علاقوں کا دورہ فرمایا جن میں مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کی امدادی پارٹیاں گذشتہ ایک ماہ سے ریلیف کا کام کر رہی ہیں۔علالت طبع کے باوجود حضور نے بستیوں اور محلوں میں تشریف لے جا کر غریب عوام کی شکایات نہایت توجہ سے سنیں اور ان کے ازالہ کے لئے خدام کو ضروری ہدایات دیں۔جن بستیوں میں حضور تشریف لے گئے ان میں لیاقت یارک، کشمیر روڈ ، وارث روڈ کانگڑہ آبادی (اچھرہ ) مہاجر آباد مندر چونی لال واقع ملتان روڈ اور دھوبی منڈی شامل ہیں۔ان علاقوں میں حضور نے ان مکانات کا بھی معائنہ فرمایا جو حضور کی تحریک پر ربوہ اور لاہور کے خدام نے حال ہی میں از سرنو تعمیر کئے ہیں۔حضور جس علاقے میں بھی تشریف لے گئے لوگوں نے نہایت تپاک اور احترام کے ساتھ حضور سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا اور تعمیر مکانات کے سلسلہ میں خدام الاحمدیہ کی بروقت اور بے لوث خدمات پر تشکر کے گہرے جذبات ظاہر پر تن کرتے ہوئے انتہائی ممنونیت کا اظہار فرمایا۔بارش زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد حضور نے ایک ملاقات میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا دراصل ان علاقوں میں جا کر میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کام کے متعلق جور پور میں پہنچتی رہی ہیں ان میں مبالغہ تو نہیں کیا گیا۔