سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 219 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 219

216 کیا گیا۔دنیا بھر کی جماعتوں نے احتجاجی تار اور مراسلے بھجوائے اور اپنے جذبات سے حکومت سپین اور حکومتِ پاکستان کو آگاہ کیا۔حضرت فضل عمر نے ۲۰۔اپریل ۱۹۵۶ء کو ربوہ میں ایک پر جوش خطبہ میں حکومت سپین کے اس غیر منصفانہ۔ظالمانہ اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور مسلمانوں کو ایسا رستہ دکھایا جس پر چلنے سے صرف پین ہی نہیں سارا یورپ اور امریکہ بھی مسلمان ہوسکتا ہے۔حضور کا یہ ولولہ انگیز خطبہ درج ذیل ہے :- و کرم الہی ظفر کو گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے چونکہ تم لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے ہو جو ہمارے ملک کے قانون کی خلاف ورزی ہے اس لئے تمہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ تم اس قسم کی قانون شکنی نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔ہمارا ملک اسلامی ملک کہلاتا ہے لیکن یہاں عیسائی پادری دھڑتے سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور کوئی انہیں عیسائیت کی تبلیغ سے نہیں روکتا لیکن وہاں ایک مبلغ کو اسلام کی تبلیغ سے روکا جاتا ہے اور پھر بھی ہماری حکومت اس کے خلاف کوئی پروٹسٹ نہیں کرتی۔وہ کہتے ہیں میں نے پاکستان کے ایمبیسڈر سے کہا کہ تمہیں تو ہسپانوی حکومت سے لڑنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ تم اسلامی مبلغ پر کیوں پابندی عائد کرتے ہو؟ جب کہ حکومت پاکستان نے اپنے ملک میں عیسائی پادریوں کو تبلیغ کی اجازت دے رکھی ہے اور وہ ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کرتی۔اس نے کہا یہ تو درست ہے مگر سپین کی وزارت خارجہ کا سیکرٹری یہ کہتا تھا کہ تم اپنے ملک میں لوگوں کو جو بھی آزادی دینا چاہتے ہو بیشک دو ہمارے ملک کی کانسٹی ٹیوشن اس سے مختلف ہے اور ہمارے ملک کا یہی قانون ہے کہ یہاں کسی کو اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بہر حال یہ ایک افسوس کا مقام ہے کہ ہماری حکومت دوسری حکومتوں سے اتنا ڈرتی ہے کہ وہ اسلام کی حمایت بھی نہیں کر سکتی حالانکہ اس کا فرض تھا کہ جب ایک اسلامی مبلغ کو ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس دیا تھا تو وہ فور پروٹسٹ کرتی اور اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی مگر پروٹسٹ کرنے کی بجائے ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس بھی ہمارے مبلغ