سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 217
213 ذرے ذرے سے ظاہر ہو وہ اسلام کے لئے اس قدر مضبوط ہو کہ دشمن کے وار اس پر اس طرح پڑیں جس طرح پہاڑ سے ہر ٹکراتی ہے ( خطبات محمود جلد ۲ صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸) کاہلی اور نکما پن افراد اور جماعت کے لئے ایک گھن کے کیڑے کی طرح ہوتا ہے اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- جماعت میں کوئی نکما نہ رہے اور کوئی آدمی ایسا نہ ہو جو کمائی نہ کرتا ہو نا کارہ لوگ قوم کی گردن میں پتھر کی حیثیت رکھتے ہیں اور قوم کی ترقی میں ایک روک ہوتے ہیں۔اگر انسان تھوڑا بہت بھی کام کرے تو وہ خود بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور قوم کی ترقی میں بھی کسی حد تک مد ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔صحابہ کرام میں کام کرنا کوئی عیب نہ تھا۔حضرت علی رسول کریم صلی اللہ و الہ وسلم کے بھائی تھے۔مکہ کے رؤوساء میں سے تھے اور معزز ترین خاندان کے فرد تھے مگر باوجود اس کے جب آپ پہلے پہل مدینہ میں گئے تو دیگر صحابہ کے ساتھ گھاس کاٹ کر بیچا کرتے تھے۔مگر کیا آج کوئی معمولی زمیندار بھی ہے جو ایسا کرنے کے لئے تیار ہو۔وہ بھوکا مرنا پسند کرے گا مگر اس کے لئے آمادہ نہ ہو گا۔مگر رسول کریم صلی اللہ والا علم کے بھائی ، ملکہ کے رئیس اور اعلیٰ خاندان کے فرد حضرت علی نے یہ کام کیا۔اور اصل اسلامی روح یہی ہے کہ کوئی شخص نکتا نہ ہو، چاہے عملی کام کرے جیسے مدرس مبلغ وغیرہ ہیں۔اور چاہے ہاتھ سے کام کرے جیسے لوہار، ترکھان، جو لا ہا وغیرہ پیشے ہیں (خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۹۹ تا ۱۰۱) اس موضوع پر آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:۔جماعت میں سے سستی اور کاہلی کو دور کیا جائے سستی سے قوموں کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ہماری جماعت میں کئی لوگ ایسے ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے حالانکہ اسلامی طریق یہ ہے کہ کسی کو بے کار نہیں رہنے دینا چاہئے۔سیکرٹری صاحبان اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی احمدی بر کا ر نہ رہے۔جن کو کوئی کام نہ ملے انہیں مختلف نے سکھلا دیئے جائیں۔اگر کوئی شخص مہینہ میں دو روپے ہی کما سکتا ہے تو وہ اتنا ہی کمائے کیونکہ بالکل خالی رہنے سے کچھ نہ کچھ کما لینا ہی اچھا ہے کوشش کرنی چاہیئے کوئی احمدی بیکار اور سست نہ ہو (انوار العلوم جلده اصفحہ ۹۸٬۹۷)