سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 210
206 اپنے نفوس میں عشق الہی پیدا کرنے ، اخلاص میں ترقی اور مستقل مزاجی کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ مصائب و آفات آپ کی جماعت کو تباہ نہ کریں گے مگر اس کے ایک اور معنی بھی ہیں۔اس الہام میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مصائب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے آگ ہمارا کام کر رہی ہے یعنی عشق الہی کی آگ ہماری کمزوریوں کو جلا رہی ہے اور جب دلوں میں عشق الہی کی آگ جل جاتی ہے تو پھر اس کی علامتیں مومنوں سے بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔پس ہماری جماعت کے ہر فرد کے دل میں محبت الہی کا ایسا شعلہ ہو کہ منہ سے بھی نکلتا ہوا اور ہر احمدی اس آگ کو اس طرح بھڑکائے کہ اس کا چہرہ دیکھ کر لوگ سمجھ جائیں کہ یہ اسلام کا سچا عاشق ہے جو اسلام کے لئے جان بھی دے دے گا مگر قدم پیچھے نہ ہٹائے گا۔میں نے دیکھا ہے پچھلی مجلس مشاورت سے احباب نے ہر رنگ میں ترقی کی ہے اور مالی اور دوسری مشکلات کے متعلق کسی قدر تسلی ہوئی ہے اور اس وجہ سے چند راتیں میں نے بھی آرام کی بسر کی ہیں مگر اتنی ترقی کافی نہیں ہے ہمیں اپنے تمام کاموں میں استقلال دکھانا چاہئے۔میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں اب بھی بیدار ہوں۔آج سے عہد کریں کہ واپس جا کر ان لوگوں کا اخلاص بڑھائیں گے جن میں اخلاص ہے اور جن میں نہیں ان میں پیدا کریں گے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کرتے رہیں اور دیکھیں ہر روز ہمارا قدم آگے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔پس میں دوستوں سے ایک بات تو یہ کہتا ہوں کہ ہر روز قدم آگے بڑھا ئیں۔اخلاص و محبت بڑھائیں اور دوسرے بھائیوں میں بھی پیدا کریں“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۱۴۳٬۱۴۲) ایک مجلس عرفان میں مومنانہ فراست کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔"جو شخص احتیاط نہیں کرتا اور اپنی بیوقوفی سے کوئی نقصان اٹھاتا ہے اس