سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 199 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 199

195 سب سے پہلے شامل ہونا چاہئے اس لئے بھی کہ وطن کا حق ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے جان دی جائے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات اور بہادری پیدا ہوا اور جب شیطان کی جنگ خدا تعالیٰ کی فوج کے ساتھ ہو تو اس وقت وہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہو۔جو شخص آج اپنے آپ کو اس رنگ میں تیار نہیں کرتا، جو شخص آج اپنے نفس کی اس طرح تربیت نہیں کرتا جو شخص آج اپنے اندر یہ جرأت اور دلیری پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کل اس پر کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔وہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائے گا اور اس کی زبان کے دعوے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہی ہوگا۔چنانچہ پچھلے خطبہ کے بعد ہی جب میں اپنے گھر گیا تو مجھے نہایت ہی تعجب ہوا۔ویسا ہی تعجب جیسے عبدالرحمن بن عوف کو اس وقت ہوا تھا جب ان کے پہلو میں ایک انصاری لڑکے نے کہنی مار کر کہا تھا۔کہ چچا وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم صل الله یو آر ایم کو دکھ دیا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے کہ آج اس کو مارڈالوں۔مجھے بھی اس روز ویسا ہی تعجب ہوا۔میں خطبہ کے بعد گھر میں گیا تو ایک لڑکی جو نئی بیا ہی ہوئی ہے اور جس کا ابھی رخصتا نہ بھی نہیں ہوا اور جو شہر کی رہنے والی ہے زمینداروں میں سے نہیں جنہیں لڑائی کی عادت ہوتی ہے بلکہ ایک ایسے خاندان میں سے ہے جس میں شاید صدیوں میں بھی کوئی سپاہی نہ ہوا ہو۔پھر وہ ایک ایسے شہر کی رہنے والی ہے جو تعیش اور آرام کے سامانوں کے لحاظ سے ہندوستان میں مشہور ہے، ایسے شہر کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی لڑکی جس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے اور جس کا رخصتانہ بھی نہیں ہوا میرے پاس آئی اور کہنے لگی میں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں میں حیران ہوا کہ اس کے ابا تو بوڑھے ہیں اس نے اپنے باپ کو یہ کیا لکھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں۔چنانچہ میں نے اس سے کہا۔بی بی میں تمہاری بات کو نہیں سمجھا تمہارے باپ تو بوڑھے ہیں وہ فوج میں کس طرح بھرتی ہو سکتے ہیں؟ پھر اس نے شرمائی ہوئی آواز سے کہا۔میں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دیدیں میں نے سمجھا کہ شاید اس نے یہ لکھا ہے کہ مجھے