سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 196 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 196

192 لمبی فہرست نہیں لکھ سکتا۔مجھے لوگوں کے نام ان کے پتے اور ان کی شکلیں بہت یاد رہتی ہیں مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے میرا حافظہ بہت اچھا بنایا ہے کئی لوگ رہ گئے حتی کہ کئی اچھے اچھے تعلق رکھنے والے رہ گئے۔مثلاً در دصاحب کا خاندان ہی رہ گیا حالانکہ درد صاحب کے خاندان سے ہمارے خاندان کا بہت پرانا تعلق ہے، صوفی عبد القدیر صاحب جو مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے لڑکے ہیں ان کا نام رہ گیا حالانکہ مولوی عبداللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہایت عزیز تھے اور قدیم صحابہ میں سے تھے۔اور ان لوگوں کو ہم اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں۔اسی طرح میرے بہنوئی عبداللہ خان صاحب ہیں ان کا نام رہ گیا اور یہ نام فہرست کے آخر میں شامل کئے گئے تو انسان کبھی بھول جاتا ہے“ پھر فرمایا: - ( خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۲۲۴) دو میں نے دیکھا کہ کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنی غفلت سے یہ سمجھ لیا کہ ہمارا بچہ چھوٹا سا ہے اگر یہ ولیمہ کی دعوت میں شریک ہو گیا تو ڈیڑھ ہزار کے قریب آدمیوں میں کیا حرج ہو گا۔اور اسی طرح ہر شخص جہاں خود آیا وہاں اپنے بچوں کو ساتھ لا کر تعداد میں اس نے غیر معمولی اضافہ کر دیا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ دعوت میں پانچ چھ سو بچے شریک تھے حالانکہ عام طور پر بچوں کو ہم نے مدعو نہیں کیا تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض رشتہ داروں کے بچے مدعو تھے مگر ایسے مواقع پر رشتہ داروں سے قدرتاً۔۔ممتاز سلوک کرنا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ نادانی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ دنیوی رشتے سے دینی رشتہ بہر حال مقدم ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ دینی رشتہ کو تقدم حاصل ہوتا ہے۔مگر جہاں دینی اور دنیاوی دونوں رشتے مل جائیں۔وہاں بہر حال ان رشتہ داروں کو مقدم کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ ان میں دو وجوہ جمع ہو گئے دینی رشتہ داری بھی اور دنیاوی رشتہ داری بھی۔( خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۲۲۵) پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ : - ذاتی تعلقات کا حصہ بہت قلیل تھا اور اس میں چند بچے شامل تھے لیکن