سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 160 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 160

156 کہ وہ اپنے بچے تعلیم الاسلام کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجیں اگر جماعت ابھی سے اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو وہ چار پانچ سال کے اندر اندر بہت اعلیٰ طور پر تعلیم میں منظم ہو سکتی ہے۔۔۔۔دیہات میں تعاون با ہمی کیا جائے جس طرح ہماری جماعت دوسرے کاموں کے لئے چندے جمع کرتی ہے اسی طرح ہر گاؤں میں اس کے لئے کچھ چندہ جمع کر لیا جائے جس سے اس گاؤں کے اعلیٰ نمبروں پر پاس ہونے والے لڑکے یا لڑکوں کو وظیفہ دیا جائے۔۔۔۔۔۔الفضل ۳۰ اکتوبر ۱۹۴۵ ء صفحه ۵) اعلی تعلیم اور عمدہ اخلاق کا چولی دامن کا ساتھ ہے اگر ان میں سے کسی ایک کی طرف توجہ نہ دیجائے تو وہ فائدہ کی بجائے نقصان وذلت کا باعث ہو سکتا ہے۔اس اہم امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- " ہمارے سامنے مذہبی تعلیم کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ ہمارے نوجوانوں کی تعلیم ایسے رنگ میں ہو کہ وہ کسی سے کسی علم میں پیچھے نہ رہیں اگر ہمارا کوئی مبلغ دنیوی تعلیم سے کورا ہوگا تو جہاں وہ کوئی ایسی بات کرے گا جو درست نہ ہوگی تو لوگ اس پر ہنسیں گے۔حضرت خلیفہ اول ایک قصہ سنایا کرتے تھے جو علم النفس کے ماتحت بہت لطیف ہے۔فرماتے ایک بادشاہ کو ایک بناوٹی بزرگ سے بہت عقیدت تھی وہ مدتوں اس کے پاس جاتا رہا ایک دن اس بزرگ کو شوق ہوا کہ بادشاہ پر سیاسی امور کے لحاظ سے بھی اثر ڈالوں۔اس خیال سے اس نے کہا آپ کو ملک کی طرف زیادہ توجہ نہ دینی چاہئے۔مسلمانوں میں ایک بادشاہ سکندر گز را ہے جو بہت مشہور تھا وہ ملک کی بڑی خدمت کرتا تھا۔یہ سن کر بادشاہ اٹھ بیٹھا پھر کبھی اسے منہ نہ لگایا۔تو مبلغ اگر عام علوم سے واقف نہ ہو تو ایسی بات کر سکتا ہے جس سے سننے والوں کو اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔لیکن اگر وہ دیگر علوم سے بھی واقف ہو تو اس کی بات بہت وزن دار ہوگی۔اس وجہ سے ہمارے نوجوانوں کے لئے ہر قسم کے علوم پڑھنے کا انتظام ہونا ضروری ہے تا کہ کسی مجلس میں وہ کوئی بے علمی کی بات نہ کریں۔دوسری بات یہ ضروری ہے کہ ان کی تربیت اعلیٰ درجہ کی ہو۔ابھی ایک دوست ایک عالم کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کا خود تقریر کرنا تو الگ رہا