سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 113
113 انتظام کر دیتا۔وہ کہنے لگے کیا آپ اپنی مسجد میں اس کی اجازت دیدیتے۔میں نے کہا کیوں نہیں اگر ہمارے آقا و مولا نے عیسائیوں کو مسجد میں اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دی تو میں آپ کو مسجد میں لیکچر کی اجازت کیوں نہیں دے سکتا۔ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آج لیکچر دے سکتا ہوں چنانچہ میں نے اجازت دی اور اس مسجد ( مسجد اقصیٰ قادیان ناقل ) (الفضل ۱۱۔جون ۱۹۳۶ ، صفحہ ۶ ) میں ان کا لیکچر ہوا آپ کی سلامت طبع اور امن پسندی اسبات کو خلاف عقل اور ناممکن قرار دیتی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی جان بھی لے سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- آجکل بم بازی اور قتل و غارت کے اکثر واقعات ہو رہے ہیں اور بلا وجہ لوگوں کا خون بہایا جاتا ہے حالانکہ یہ اتنی عجیب بات ہے کہ میں بعض دفعہ حیران ہو جاتا ہوں اور سوچا کرتا ہوں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح قتل کر سکتا ہے۔بسا اوقات کئی کئی منٹ میں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح قتل کر سکتا ہے اور اگر دنیا میں انسانوں کے قتل کے واقعات نہ ہوتے تو یقیناً میں ان لوگوں میں سے ہوتا جو یہ کہتے کہ ایک انسان کا دوسرے انسان کو قتل کرنا ناممکنات میں سے ہے۔جس طرح ایک اور ایک کا چھپیں ماننا ناممکن ہے اسی طرح میں اس امر کو باور نہ کر سکتا۔کیونکہ انسانی جان کوئی معمولی چیز نہیں“ الفضل ۷۔جولائی ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۰) ہمدرد دل ایک مخالف کی طرف سے بعض غلط الزامات کا اعادہ کرنے کے بعد حضور کی طرف سے آئندہ نقصان پہنچانے کے خدشہ کا اظہار کیا گیا تو حضور نے اپنی دلی ہمدردی اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے متعلق اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: - مجھے اس قسم کے اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ہر غلط الزام کا جواب دینے کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ اس کا فائدہ ہوتا ہے لیکن چونکہ خط لکھنے والے نے آئندہ کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے اور میں کسی کو قلق اور اضطراب میں رکھنا نہیں چاہتا ہوں اس لئے میں ان کے وسوسہ کو دور کرنے اور ان کے خدشات کو مٹانے کے لئے وہ بات کہتا ہوں جس کی مجھے عام حالات میں