سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 112
112 میں سے ایک لحظہ بھی ایسا نہیں گزرا جس میں میرے دل میں کسی شخص کے متعلق دشمنی کے جذبات پیدا ہوئے ہوں“ الفضل ۲۶ فروری ۱۹۳۶ ء صفحه ۴) اللہ تعالیٰ نے آپ کو تحمل و برداشت کی غیر معمولی صلاحیت سے نوازا تھا۔بسا اوقات غیر از جماعت افراد اپنی نا واقفیت سے حضور کو بُرے لفظوں سے یاد کرتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بُرا بھلا بول دیتے مگر آپ اس طرح برداشت فرماتے کہ مخالف کو یہ بھی احساس نہ ہوتا کہ اس نے کوئی نا مناسب حرکت کی ہے۔اس قسم کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اسی شہر (فیصل آباد میں ایک بیرسٹر تھے۔میں ان کا نام نہیں لیتا تا کہ اگر یہاں ہوں تو شرمندگی نہ ہو۔میں جب حج کے لئے جار ہا تھا تو وہ بھی ڈگری لینے کے لئے اسی جہاز میں جا رہے تھے ان کے ساتھ ایک اور ہند و بیرسٹر بھی تھے جو ان دنوں لاہور میں پریکٹس کرتے ہیں اور مشہور بیرسٹر ہیں وہ عام طور پر مذہبی گفتگو کرتے رہتے تھے اور جب ان کو علم ہوا میں احمدی ہوں تو مذہبی گفتگو کا سلسلہ اور بھی لمبا ہونے لگا۔وہ بعض اوقات بانی سلسلہ احمدیہ کو گالی بھی دیدیتے مگر میں تحمل سے جواب دیتا۔آخر گیارہ دن کے بعد جب ہم سویز پہنچے تو نا معلوم کس طرح انہیں علم ہو گیا کہ میں بائی سلسلہ احمدیہ کا بیٹا ہوں اس پر وہ بہت گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ معاف کیجئے مجھے علم نہ تھا اس لئے سخت الفاظ بعض اوقات منہ سے نکل گئے۔میں نے انہیں کہا کہ اگر میں بُرا مانتا تو آپ سے کہہ دیتا۔میں تو چاہتا تھا کہ آپ گھل کر اعتراض کریں۔پس یہ چیزیں ہماری نگاہ میں کچھ ہستی ہی نہیں رکھتیں،، تحقیق حق کا صحیح طریق انوار العلوم جلد ۱۳ صفحه ۳۹۲) غیر مسلموں سے حسن سلوک آپ کی رواداری اور وسعت قلبی کا دائر ہ صرف جماعت کے افراد یا مسلمانوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ غیر مسہ مسلموں سے بھی آپ کا ایسا ہی سلوک تھا اس کی ایک بہت عمدہ مثال درج ذیل ہے۔آپ فرماتے ہیں :- یہاں ایک دفعہ آریوں کا جلسہ ہوا جس میں انہوں نے ہمارے خلاف بہت شور مچایا۔جلسہ کے بعد ان کے لیکچرار مجھ سے ملنے آئے۔میں نے ان سے کہا کہ سنا ہے آپ کو جگہ کے متعلق تکلیف ہوئی آپ میرے پاس آتے میں مسجد میں