سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 84
۸۴ حکومت مغربی پنجاب نے ۱۰۳۴ ایکڑ زمین ضلع جھنگ میں چنیوٹ کے قریب جماعت احمدیہ کے ہاتھ دس روپے فی ایکڑ کے حساب سے بیچی۔الزام یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے بعض مسلم انجمنیں اس زمین کو پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدنا چاہتی تھیں۔یہ اعتراض بھی کیا گیا ہے کہ جب ضلع دار آبادی کی تجویز کو منظور نہیں کیا گیا تو احمدیہ جماعت کو یہ موقع کیوں دیا گیا ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقہ کو اپنی کالونی بنا لے۔یہ رپورٹ گمراہ کن اور اصلیت سے دور ہے۔جس زمین کے متعلق یہ اعتراض کیا گیا ہے وہ بنجر ہے اور عرصہ دراز سے اسے زراعت کے ناقابل سمجھا گیا ہے۔اسے جماعت احمدیہ کے ہاتھ فروخت کرنے سے پہلے حکومت نے اس کا اشتہار اخبارات میں دے دیا تھا اور پورے ایک مہینہ تک کسی شخص نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔جہاں تک قیمت کا تعلق ہے حکومت کو آج تک پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ اس زمین کی قیمت کسی فرد یا کسی جماعت کی طرف سے پیش نہیں کی گئی۔چونکہ ابھی تک سکونتی اغراض کیلئے زمین بیچنے کی کوئی نظیر موجود نہیں تھی اس لئے حکومت نے اس کیلئے وہی شرح مقرر کی جو حکومت کے محکموں کیلئے ہے۔جماعت احمد یہ اس علاقے میں ایک نئی بستی آباد کرنا چاہتی ہے جس میں قادیان کے اجڑے ہوئے لوگ آباد ہوں گے۔ان کا خیال ہے کہ یہاں سکول ہوں، کالج ہوں ، ذہبی مدارس ہوں اور صنعتی ادارے ہوں۔ان کی یہ تجویز کسی صورت میں بھی ان وجوہ سے نہیں ٹکراتی جن کی بناء پر حکومت نے مهاجرین کی ضلع دار آبادی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے جو صوبے کے ایک بڑے علاقے میں بسائے جاچکے ہیں۔" اخبار " انقلاب لا ہو ر ۳۱۔اگست ۱۹۴۸ء) حکومت کی طرف سے اس زمین کا قبضہ دیئے جانے میں تاخیر ہو رہی تھی۔حضور ان دنوں کو ئٹہ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔آپ نے صدر انجمن کو بذریعہ تاریہ ہدایت فرمائی کہ اس سلسلہ میں فوری کارروائی کی جائے۔حضور کا طریق مبارک تھا کہ ضروری کام کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔مکرم راجہ علی محمد صاحب کا مندرجہ ذیل بیان حضور کی سیرت کے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔اس رقبہ کے حصول کیلئے حضور کی سرگرمی اور گرم جوشی کا بیان کرنا میری قلم کی طاقت سے باہر ہے۔اپنی کو تاہ بینی کی وجہ سے ہم میں سے بعض یہ خیال کرتے تھے کہ