سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 83
۸۳ ایک کی غفلت کی وجہ سے ہم سال بھر تک اجڑے رہے۔اب جگہ ملی ہے۔صرف ایک کسر باقی ہے۔اگر وہ دور ہو گئی تو جلد آبادی کی کوشش کی جائے گی۔" (الفضل ۲۸۔ستمبر ۱۹۴۸ء) ۲۲۔جون ۱۹۴۸ء کو صد را انجمن احمدیہ کی طرف سے زمین کی الزام اور اس کی تردید قیمت داخل خزانہ کروا کے دفتری کار روائی کی تکمیل کروالی گئی۔یہاں تک تو معمول کے مطابق کام ہو تا گیا مگر اس کے بعد بعض اردو اخبارات نے مخالفانہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ حکومت نے جماعت کی ناجائز طرف داری کی ہے اور یہ کہ بعض لوگ ۱۵۰۰ روپے فی ایکڑ تک یہ اراضی خرید نے کو تیار تھے مگر جماعت کو برائے نام قیمت پر دیدی گئی۔حقیقت حال کی وضاحت کرتے ہوئے حضور کے ارشاد کے مطابق ناظر صاحب امور خارجہ صدر انجمن احمدیہ نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا۔اخبار " زمیندار نے اپنی اشاعت یکم اگست ۱۹۴۸ء میں احراری اخبار "آزاد" کے حوالہ سے ایک مقالہ افتتاحیه سپرد قلم کیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ جو اراضی جماعت احمدیہ نے چنیوٹ کے قریب دس روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدی ہے اس اراضی کو بعض لوگ پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے خریدنے کیلئے تیار تھے۔سو اگر یہ درست ہے تو واقعی حکومت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز گورنمنٹ کے اس نقصان کو قطعا برداشت نہیں کر سکتے اس لئے حضور نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ میں یہ پریس کمیونک جاری کروں کہ ہم یہ رقبہ جو ۱۰۳۴۔ایکڑ ہے مندرجہ بالا پیش کردہ قیمت پر فروخت کرنے کو تیار ہیں اور علاوہ ازیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس رقم کا (جو پندرہ لاکھ اور اکاون ہزار روپیہ بنتی ہے) وصول ہوتے ہی ایک ایک روپیہ فوراً حکومت پاکستان کے خزانے میں داخل کرا دیں گے۔اخیر میں ہم پاکستان کے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملہ کے متعلق اخبار آزاد " کا لفظ لفظ کذب بیانی پر مبنی ہے۔" (الفضل ۴۔اگست ۱۹۴۸ء صفحه ۱) مغربی پنجاب کی حکومت نے بھی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے اس سرا سر غلط پروپیگینڈا کو گمراہ کن اور اصلیت سے دور قرار دیتے ہوئے پر لیس میں یہ بیان جاری کیا۔بعض اخبارات میں ایک خبر چھپی ہے جس میں اس بات پر نکتہ چینی کی گئی ہے کہ