سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 82
۸۲ جائے تو ایک کروڑ کے مکانات قادیان میں تھے اور یہ قیمت صرف مکانوں کی ہے۔زمین ( کی قیمت) اس سے الگ ہے۔زمین کی قیمت اس وقت دس ہزار روپے فی کنال تک پہنچ گئی تھی اور پانچ سو ایکڑ کے قریب زمین مکانوں کے نیچے تھی۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ چالیس ہزار کنال زمین پر مکانات بنے ہوئے تھے۔اگر پانچ ہزار روپے فی کنال بھی قیمت لگا دی جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ دو کروڑ کی زمین تھی جس پر مکانات بنے ہوئے تھے۔گویا تین کروڑ کے قریب مالیت کے مکانات قادیان والے چھوڑ کر آئے ہیں۔اگر لاہور 11 کل پور سرگودھا وغیرہ اضلاع میں قادیان کے لوگوں کو بسایا جائے تو پھر وہاں زمین اور مکانات کی قیمتیں قادیان کی زمین اور مکانات سے بڑھ کر ہوں گی۔اگر احمدیوں کو یہ جگہ دے دی جائے اور وہ وہاں بس جائیں تو تقریباً چار کروڑ کی جائیداد بیچ جاتی ہے جو دوسرے لوگوں کو دی جاسکتی ہے۔انہوں نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ قاعدہ کے مطابق اسے گزٹ میں شائع کرنا ہو گا اور وعدہ کیا کہ وہ نومبر یاد سمبر میں اسے شائع کر دیں گے۔مگر جب جنوری میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم بھول گئے ہیں۔ہم نے کہا یہ آپ کا قصور ہے۔ہمارے آدمی آوارہ پھر رہے ہیں۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا خواہ کچھ بھی ہو، بہر حال اسے شائع کرنا ضروری ہے تا معلوم کیا جائے کہ اس زمین کا کوئی دعویدار ہے یا نہیں۔اس کے بعد کہہ دیا گیا جب تک کاغذات کمشنر کی معرفت نہ آئیں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ایک مہینہ میں کاغذات کمشنر کے پاس سے ہو کر پہنچے اور اس طرح مارچ کا مہینہ آگیا۔پھر کہا گیا کہ ان کاغذات پر قیمت کا اندازہ نہیں لکھا گیا اس لئے ہم کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔پھر دوبارہ کاغذات مکمل کر کے بھیجے گئے۔پھر افسر مقررہ نے ایک مہینہ بعد تعمیل کی۔پھر اپریل میں قیمت لگائی گئی۔پھر یہ سوال اٹھایا گیا کہ کاغذات منسٹری کے پاس جائیں۔ہم نے کہا کہ یہ کام تو فنانشل کمشنر صاحب خود کر سکتے ہیں۔مگر کہا گیا کہ یہ کام چونکہ اہم ہے اس لئے کاغذات کا منسٹری کے پاس جانا ضروری ہے۔کاغذات منسٹری کے پاس بھیجے گئے۔منسٹری نے کہا ابھی ان پر غور کرنے کیلئے فرصت نہیں۔آخر ایک لمبے انتظار کے بعد جون میں فیصلہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ جو قیمت ڈالی گئی وہ وصول کی گئی۔یہ واقعات میں نے اس لئے بتائے ہیں کہ گورنمنٹ کے افسران نے ہمارے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی۔بلکہ ان میں سے بعض