سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 77 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 77

،، کے سدباب کے لئے فی الفور پاکستانی فوج قادیان کی حفاظت کیلئے مقرر ہونی چاہئے مبادا سکھ غیر مسلم فوج اور پولیس کی امداد یا اغماض سے فائدہ اٹھا کر قادیان کے خلاف کوئی سازش کریں۔" اخبار احسان ان خون آشام حالات کا ذکر کرتے ہوئے قادیان میں پناہ لینے والوں کی حالتِ زار کا نقشہ کچھ یوں کھینچتا ہے۔لمبی چوڑی باتیں لکھنے کا وقت نہیں اس وقت ہم کم و بیش پچاس ہزار افراد قادیان میں پناہ لئے بیٹھے ہیں۔انہیں احمدیوں کی طرف سے زندہ رہنے کیلئے کھانا مل رہا ہے بعض کو مکان بھی مل چکے ہیں۔مگر اس قصبہ میں اتنی گنجائش کہاں ؟ ہزاروں آسمان کی چھت کے نیچے زمین فرش پر بیٹھے ہیں جنہیں دھوپ بھی کھانا پڑتی ہے اور بارش میں بھی بھیگنا پڑتا ہے پھر بھی ہم جوں توں کر کے زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔پچھلے جمعہ کو ہمیں یہاں سے قافلہ کی صورت میں ملٹری نے چلے جانے کا حکم دیا لیکن یہاں کے بھلے لوگوں نے ہمیں اس لئے روک لیا کہ حفاظت کے بغیر رستے میں کٹ جاؤ گے۔" (احسان لاہو ر ۲۔اکتوبر۷ ۱۹۴ء) بھلے لوگوں سے مراد یقیناً قادیان کی احمدی انتظامیہ ہی ہو سکتی ہے اور واقف حال لوگوں سے یہ امر مخفی نہیں ہے کہ قافلہ میں جانے والوں کا انجام نہایت خوفناک ہو تا تھا۔ایک قافلہ کے پیدل چلنے میں جو مشکلات ہو سکتی ہیں وہ تو قوت متخیلہ کے زور سے کسی قدر ذہن میں آسکتی ہیں مگر اس وقت شدید طوفانی بارشوں کے علاوہ سکھوں کے جتھوں نے جو تباہی مچائی ہوئی تھی اس میں تو اموال اور عزتیں بھی محفوظ نہیں رہتی تھیں۔اور بھلے لوگوں کے مشورہ نے ان پچاس ہزار مصیبت زدگان کو یقیناً بے شمار بھیانک اور لرزہ خیز نقصانات سے محفوظ کر لیا ہو گا۔