سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 76 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 76

44 اخبار نوائے وقت نے ” قادیان کا مورچہ " کے عنوان سے لکھا۔قادیان مشرقی پنجاب میں ایک قصبہ ہے جہاں مسلمان ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔خاص قادیان میں مسلمانوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہ تھی کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے مگر ارد گرد کے دیہات سے ہزاروں مسلمانوں نے اس قصبہ میں پناہ لی ہے اور اب ایک روایت کے مطابق پچاس ہزار مسلمان قادیان میں پناہ گزیں ہیں۔ہم اس وقت اختلاف عقائد کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے نہ یہ وقت اس بحث کو چھیڑنے کیلئے موزوں ہے۔مسلمانوں سے ہماری درخواست صرف اس قدر ہے کہ اغیار کو اس وقت اس سے کوئی غرض نہیں کہ فلاں شخص کے عقائد کیا ہیں حتی کہ انہیں اب کانگریسی اور لیگی کا بھی کوئی امتیاز نہیں وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ نام مسلمانوں کا ہے اور شکل وصورت مسلمانوں کی سی ہے۔ایسا ہر شخص ان کے نزدیک واجب القتل ہے۔اگر اہل قادیان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ غنڈہ گردی کا مقابلہ کریں گے اور مدافعت و مزاحمت کئے بغیر یہاں سے نہیں نکلیں گے تو ہر کلمہ گو کو ان سے حسب استطاعت عملی یا محض اخلاقی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہئے۔" (نوائے وقت ۲۲۔ستمبر ۱۹۴۷ء) یی اخبار اپنے ۱۰۔دسمبر۷ ۱۹۴ء کے ضمیمہ میں لکھتا ہے۔اس وقت جب سارے مشرقی پنجاب میں افرا تفری زوروں پر ہے اور لاکھوں مسلمان اپنا عزیز وطن چھوڑ کر محض اپنی جان بچا کر مغربی پنجاب میں پہنچ رہے ہیں اور بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے وقار کو ضعف پہنچ رہا ہے۔قادیان ضلع گورداسپور کے مسلمان اپنے مقام پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ باعزت موت کو ذلت اور رسوائی کی زندگی پر ترجیح دینے کا تہیہ کر چکے ہیں۔" اسی اخبار نے اپنی ۶۔ستمبر۷ ۱۹۴ء کی اشاعت میں لکھا۔" قادیان کے نواحی علاقے میں سکھوں نے متعدد دیہات میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔مسلمانوں کو قتل اور ان کی جائیدادوں کو تباہ کیا جارہا ہے لیکن انہیں قادیان پر حملہ کرنے کی ابھی جرأت نہیں ہوئی۔اہل قادیان اللہ کے فضل سے طاقتور اور منظم ہیں اور حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ان کو ہر وقت صبر و سکون اور توکل علی اللہ کی تلقین کر رہے ہیں۔لیکن مسلمانان پاکستان کا مطالبہ یہ ہے کہ خطرے