سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 75
۷۵ اخلاص میں دوسروں سے بہتر نمونہ پیش کرے ، اگر ایک رہنما کیلئے ضروری ہے کہ وہ پیش آمدہ حالات کا باریک بینی اور دور اندیشی سے مطالعہ کر کے تمام ممکن صورتوں کیلئے مکمل تیاری کرے اگر ایک رہنما کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس کو دشمن کی تیاری اور طاقت کا بخوبی اندازہ ہو۔اگر ایک رہنما کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ مخالف کی تیاری اور طاقت کے پیش نظر جہاں تک ممکن ہو اپنی تیاری مکمل رکھے اور اپنی کمزوریوں سے واقف رہتے ہوئے ان کا ازالہ کرتا رہے نہ على وجد البصيرت یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہجرت کے امتحان میں ہمارے پیارے امام حضرت مصلح موعود کی قائدانہ صلاحیتیں اس طرح ظاہر ہو ئیں کہ اس کی مثال کسی اور جگہ تلاش کرنا بے کارو عبث ہے اور یہ بات بلاخوف تردید کی جاسکتی ہے کہ اگر حضور کے بروقت ارشادات کی روشنی میں مسلمان خود حفاظتی اور ایک دوسرے کی مدد کیلئے نظم و ضبط اور قربانی سے کام لیتے تو پاکستان کی حدود بہت زیادہ وسیع ہو تیں اور تقسیم ملک کے وقت مسلمانوں پر جو تباہی آئی وہ ہرگز نہ آتی اور تبادلہ آبادی کا بھیانک خونیں حادثہ بھی پیش نہ آتا اور کسی کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ مسلم اکثریت والا ضلع گورداسپور سراسر ظلم اور زیادتی کے طریق پر پاکستان کے وجود سے کاٹ کر الگ کر کے اور چالیس لاکھ کشمیری مسلمانوں کو ہندو کی خون آشام تلوار تلے سسکتے رہنے پر مجبور کر دیتا۔یا د رہے کہ ضلع گورداسپور کی مسلم اکثریت احمدیوں کو شامل کرنے سے ہی بنتی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کا گورداسپور پر دعویٰ بنتا ہے۔اگر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے (حالانکہ کسی کو بھی نہ یہ حق حاصل ہے اور نہ ہی اس کی اجازت ہے تو گورداسپور غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار پاتا ہے!! حضرت فضل عمر کے بہت سے کار ہائے نمایاں مخالفوں کی ضد اور تعصب کے گردو غبار سے لوگوں کے سامنے نہیں آسکے مگر تقسیم ملک کے وقت جس مسلم ہمدردی اور مسلم کاز کیلئے مجاہدانہ سرگرمی اور پھر تقسیم بر صغیر کے وقت جس قسم کی تیاری و پیش بندی کی ضرورت تھی اور جس طرح آپ کی نگرانی و رہنمائی میں قادیان اور نواح قادیان کے مسلمانوں کا دفاع کیا گیا اور قادیان میں آنے والے ہزاروں مصیبت زدگان کو پناہ دے کر ہر قسم کی امداد مہیا کی گئی اس کا چرچا عام پریس میں ہوا۔چنانچہ مسلم پریس نوائے وقت ، انقلاب، احسان، زمیندار ڈیلی گزٹ ، سندھ آبزرور ڈان اس طرح ہندوستان کے اخبارات نوجوان (مدراس) حقیقت (لکھنو) اور پھر اس کے علاوہ بیرونی دنیا میں سے برما ایران ارجنٹائن کے اخبارات اور برطانیہ کے تمام قابل ذکر اخبارات نے قادیان اور امام جماعت کے اس محیر العقول کارنامہ کا ذکر کیا۔