سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 53
۵۳ ہونے دے گا خدا محمد رسول اللہ میں یا اللہ کا جھنڈا اس ملک میں کبھی نیچا نہیں ہونے دے گا خدا قرآن کو اس ملک میں کبھی ذلیل نہیں ہونے دے گاوہ ضرور ان کو پھر عزت بخشے گا اور ان کو فتح و کامرانی عطا کرے گا۔ہاں اگر ہماری کو تاہیوں کی وجہ سے یہ ابتلاء لمبا ہو جائے تو اور بات ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام کی فتح ہو اور پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرائے۔" (الفضل ۳۰۔ستمبر ۱۹۴۸ء) اور حالات کی گھمبیر صورت حال کے اس چیلنج کو قبول کرنے کیلئے ہمت افزائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس وقت سارے مسلمانوں پر ایک مصیبت کا دور آیا ہوا ہے اور ہم بھی اس دور میں سے گزر رہے ہیں۔مگر یہ کوئی عجیب بات نہیں اس کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے درخت اپنی جگہ سے اکھیڑے جاتے ہیں اور پھر دوسری جگہ اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ ان کا پھل پہلے سے زیادہ لذیذ اور میٹھا ہو۔اس وقت دنیا نے دیکھنا ہے کہ ہماری پہلی ترقی آیا اتفاقی تھی یا محنت اور قربانی کا نتیجہ تھی اگر تو وہ اتفاقی ترقی تھی اور ہماری محنت اور قربانی کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا تو یہ یقینی بات ہے کہ ہم دوبارہ اپنی جڑیں زمین میں قائم نہیں کر سکیں گے اور اگر پہلی ترقی اتفاقی نہیں تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور ہماری محنتوں اور قربانیوں کا نتیجہ تھی تو پھر یہ یقینی بات ہے کہ موجودہ مصیبت ہمارے قدم کو متزلزل نہیں کر سکتی بلکہ اس کے ذریعہ سے ہماری جڑیں اور بھی پاتال میں چلی جائیں گی اور ہماری شاخیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔" (الفضل ۳۱۔اکتوبر ۱۹۴۷ء) حضور کی قیادت و رہنمائی میں قادیان کو احمدی آبادی کے لئے ہی نہیں علاقہ بھر کے سفر ہجرت مسلمانوں کیلئے روشنی کے مینار کی حیثیت حاصل ہو گئی۔مسلمانوں کی ہر مصیبت اور مشکل کے وقت حکومت کے افسران یا پولیس و فوج کے سپاہیوں کی بجائے احمدی رضا کار ہتھیلیوں پر جان لئے ہوئے پہنچتے اور بڑی دلیری و یا مردی سے ایسے آمادہ فساد لوگوں کا مقابلہ کرتے جنہیں در پر دہ ہند و پولیس بلکہ بعض اوقات فوج تک کی مدد بھی حاصل ہوتی تھی۔حضور کے حسن تدبیر کی وجہ سے ہزاروں معصوم " م قتل ہونے سے اور ہزاروں عصمتیں برباد ہونے سے محفوظ ہو گئیں۔لا قانونیت و بربریت کے یہ ایام لمبے ہی ہوتے جا رہے تھے اس کے پیش نظر حضور نے قادیان اور علاقہ کے مسلمانوں کی بھلائی و بہتری کیلئے لاہور جا کر کوشش کرنے کا منصوبہ بنایا اور عاجزانہ