سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 52
۵۲ سے آئندہ اپنی قوم کو زندہ رکھتے چلے جائیں گے۔ہر نوجوان کے گا کہ جو قربانی ان نوجوانوں نے کی وہ ہمارے لئے کیوں ناممکن ہے۔جو نمونہ انہوں نے دکھایا وہ ہم کیوں نہیں دکھا سکتے۔خدا کی رحمتیں ان لوگوں پر نازل ہوں اور ان کا نیک نمونہ مسلمانوں کے خون کو گرماتا رہے اور اسلام کا جھنڈا ہندوستان میں سرنگوں نہ ہو۔اسلام زندہ باد محمد صلی اللہ علیہ و سلم زندہ باد۔" خاکسار۔مرزا محمود احمد (الفضل 11۔اکتوبر ۱۹۴۷ء) درویشان قادیان میں اکثریت ایسے احمدی رضا کاروں کی تھی جو حضور کی تحریک پر بڑے جوش و جذبہ سے حفاظت مرکز کا فرض ادا کرنے کیلئے اپنے چلتے ہوئے کاروبار اور ملازمتوں کو چھوڑ کر گئے تھے۔اس اخلاص و قربانی کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے بطور مثال کراچی جماعت کے مخلصین کے متعلق فرمایا۔جیسے کراچی کے دوستوں نے نمونہ دکھایا۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم قادیان جائیں گے اور چونکہ وہاں سرکاری محکموں میں احمدی زیادہ ہیں دفاتر والوں نے سمجھا کہ اگر سب احمدی چلے گئے تو کام بند ہو جائے گا اس لئے انہوں نے چھٹی دینے سے انکار کر دیا۔اس پر کئی احمدیوں نے اپنے استعفے نکال کر رکھ دیئے کہ اگر یہ بات ہے تو ہم اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کیلئے تیار ہیں۔ایک اخبار جو احمدیت کا شدید ترین دشمن تھا میں نے خود اس کا ایک تراشہ پڑھا ہے جس میں وہ اس واقع کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ہوتا ہے ایمان۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اخلاص کا نمونہ دکھایا یہ وہ لوگ ہیں جن کا عزت سے نام لیا جائے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا احمدیت کی تاریخ میں نام لکھا الفضل ۳۰۔ستمبر ۱۹۴۷ء) یہ انتہائی مایوس کن حالات قرآنی محاورہ کے مطابق ظُلمتُ فَوقَ ظُلمت کی طرح پهلو در پهلو مشکلات و مصائب لئے ہوئے تھے مگر ان حالات سے گھبرانے اور بددل ہونے کی بجائے حضور کمال حو صلہ مندی کے ساتھ فرماتے ہیں۔جائے گا۔" اس زمانہ میں محمد رسول اللہ لی لی لی اور قرآن کی خدمت کیلئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے اور خدا نے اپنے ہاتھ سے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے۔خدا اپنے لگائے ہوئے پودے کو دشمن کے ہاتھ سے کبھی تباہ نہیں