سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page vi
اس کے علاوہ قیام پاکستان کے بعد حضور کے اہم لیکچرز ، ۱۹۵۳ء کا ابتلاء اور حیات آفرین پیغامات، تصانیف منظوم کلام، استحکام خلافت اور اس شاندار، درخشندہ اور کامیاب و کامران زندگی کے اختتام پر اپنے مولیٰ کریم کے حضور حاضر ہونے کا ذکر ہے۔حضرت مصلح موعود کے اہم اور یادگار کارناموں میں تقسیم ہند و پاکستان کے بعد نئے مرکز ربوہ کا قیام شامل ہے۔یہ قطعہ زمین سرکاری کاغذات میں شور زدہ بنجر اور نا قابل آبادی تھا۔مگر جب خدا تعالیٰ کے اولوالعزم خلیفہ نے اس دھرتی پر پاؤں رکھے تو کلر اٹھی زمین کی یہ وادی غیر ذی زرع ایک حسین اور دلکش نسبزہ زار میں بدل گئی ، جہاں میلوں تک کوئی درخت اور گھاس کی پتی تک نہ تھی وہاں اب قسم قسم کے خوبصورت اور بلند قامت درخت اپنے رب کی حمد کے ترانے گا ر ہے ہیں۔یہاں سبزہ ہے ، گھاس ہے، حسین اور دلکش رنگ رنگ کے پھول ہیں۔وطن عزیز کے ہر خطہ کے پھلدار اور ایسے ایسے پودے یہاں اُگائے گئے ہیں کہ قرب و جوار میں ان کا نام و نشان نہیں۔یہ ایک معجزہ ہے، ایک انقلاب ہے جو حضرت فضل عمر کی زبان سے ابراہیمی اور اسماعیلی دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں برپا ہوا اور ہم اس عظیم انقلاب کے عینی شاہد ہیں۔تحریک آزادی ہند و پاکستان میں حضرت مصلح موعود کے گراں قدر کار ہائے نمایاں بھی حضور کی پاکیزہ سوانح کا ناقابل فراموش باب ہیں۔ہندوستان میں تحریک آزادی کا کوئی بھی موڑ آیا حضرت مصلح موعود کا دردمند دل مسلمانوں کی بہبود کیلئے تڑپ اُٹھا۔آپ نے ہر مشکل مرحلہ پر اپنی پر زور تحریروں، لیکچروں اور عملی جد وجہد سے اہلِ وطن اور خصوصاً مسلمانوں کی شاندار اور بے لوث راہنمائی فرمائی اور ہندو کانگرس کی مسلمان دشمن سازشوں کو ناکام بنا دیا۔نہرورپورٹ کا مسکت جواب دے کر مسلمانوں کے خلاف اُٹھنے والے طوفان کا رُخ موڑ کر رکھ دیا اور آخر کار ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی زبر دست تائید و حمایت فرمائی۔جس سے بالآ خر انگریز قیام پاکستان پر راضی ہو گیا۔قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے سلسلہ میں حضور نے متعدد پبلک لیکچر ز مختلف