سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page vii
شہروں میں ارشاد فرمائے اور پاکستان کے چوٹی کے لیڈر ، دانشوروں اور علمی طبقہ نے ان لیکچرز کو بہت سراہا۔اس نوزائیدہ مملکت کو وجود میں آئے ابھی چند سال ہوئے تھے کہ ۱۹۵۳ء کے دور ابتلاء سے الہی سلسلہ کو محفوظ و مامون رکھنا حضرت مصلح موعود کی فہم و فراست اور عزم و تدبر کا ایک روشن نشان ہے۔عین ان ایام ابتلاء میں حضور نے یہ ولولہ انگیز اعلان فرمایا کہ خدا میری طرف دوڑا چلا آ رہا ہے اور دنیا نے دیکھا کہ چند ہی دنوں میں بھڑکتی آگ کے شعلے سرد پڑ گئے اور احمدیت کو مٹانے کے دعویدار خود هَبَاءُ تَنشُورًا ہو گئے۔آپ کی متضرعانہ دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے جس شرف قبولیت سے نواز اوہ تاریخ احمدیت کا ایک نہ بھولنے والا باب ہے۔اس جلد کی اہم بات حیات آفرین پیغامات اور نصائح ہیں جو آج بھی دنیا بھر کے لئے روشنی اور راہنمائی کا مینار ہیں جس سے ہر دور کے سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور مذہبی لیڈر راہنمائی پاتے رہیں گے۔اس جلد کی تیاری کے سلسلہ میں خاکسار بہت سے بزرگوں کا احسان مند ہے۔سب۔پہلے محترم مولانا عبد الباسط شاہد صاحب (مؤلف کتاب ہذا) کا ذکر کرتا ہوں انہوں نے اس کام کو ایک عظیم سعادت سمجھتے ہوئے نہایت محنت ، اخلاص ، دلی شوق اور جذبہ سے سرانجام دیا ہے۔پانچویں جلد کا مسودہ بھی تیار ہو کر کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کے مختلف مراحل میں ہے۔اللہ تعالیٰ محترم مولانا موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے مقبول خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔آمین مسودہ کا جائزہ لینے کیلئے حضور انور نے درج ذیل احباب پر مشتمل کمیٹی مقرر فرمائی۔ان سب بزرگوں نے مسودہ کا تفصیلی جائزہ لیکر بعض بنیادی امور کی طرف رہنمائی فرمائی اور اپنی قیمتی آراء سے نوازا۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ