سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 539 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 539

۵۳۹ انہوں نے دوسرے ملکوں میں ۹۶ مشن قائم کئے اس وقت تک جماعت کی طرف سے ۱۵۲ مشن قائم کئے جاچکے ہیں۔انہوں نے ۱۹۲۲ء میں شدھی تحریک کی مخالفت کی اور آریہ سماجیوں کے خلاف مناظرے کئے۔۱۹۳۱ ء میں کل ہند کشمیر کمیٹی کی قیادت کی۔تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور ۱۹۴۸ء میں احمدی رضا کاروں کی ایک بٹالین تیار کر کے کشمیر میں لڑنے کے لئے بھیجی۔ان کے ماننے والوں کی تعداد تمہیں لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور دنیا میں ۲۹۱ مسجدیں تعمیر کرنے کے علاوہ تبلیغی اداروں کا جال پھیلایا ان کی جماعت نے کلام پاک کا جرمن ولندیزی انڈو نیشن اور سواحیلی زبان کے علاوہ اور کئی زبانوں کے ترجمے شائع کئے ان کی جماعت کے ارکان ان کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے پاکستان کے مختلف حصص اور بیرونی ملکوں سے ربوہ پہنچ رہے ہیں۔" ہفت روزہ "انصاف" راولپنڈی نے اپنی ا۔نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں لکھا۔فرقہ احمدیہ کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد بڑا عرصہ علیل رہنے کے بعد وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرزا صاحب فرقہ احمدیہ کے امام ہونے کے علاوہ کشمیر کے تعلق میں ایک بڑی سیاسی اہمیت کے حامل تھے۔آپ کو اگر کشمیر کی تحریک آزادی کے بانیوں میں سے قرار دیا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔مرزا صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے بانی اور صد راول تھے۔اب سے پینتیس سال قبل اس کمیٹی نے جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کو فروغ دیا اور اس کی آبیاری کی۔۱۹۳۱ء میں اور اس کے بعد جو ریاست گیر ایجی ٹیشن کئی بار ظہور پذیر ہوئی اس کی قیادت اور حمایت کشمیر کمیٹی کرتی رہی۔دیگر تحریکوں کی طرح سیاسی تحریکیں بھی مالی امداد کے بغیر نہیں چل سکتیں۔چنانچہ ۱۹۳۱ء میں کشمیر کمیٹی اور جماعت احمدیہ نے کشمیر کی ایجی ٹیشن کے لئے بھاری رقوم خرچ کیں اور درجنوں احمدی وکلاء نے مفت خدمات ریاستی عوام کے لئے پیش کیں۔چنانچہ جہاں بھی کشمیر کا ذکر آتا ہے مرزا صاحب کا ذکر خیر بھی لازمی طور پر آتا ہے۔۱۹۳۱ء کے بعد ڈوگرہ حکومت کی شہ پر شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ پر بعض رجعت پسند ریاستی حضرات نے الزام لگایا کہ وہ بھی احمد کی ہو گئے ہیں اور ان کے ذریعہ احمدی فرقہ ریاست کشمیر کے مسلمانوں کو بھی احمدی