سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 536 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 536

۵۳۶ ہو ثبت گز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق است بر جریده عالم دوام ما حضور کی المناک وفات پر اس وقت کے صدر مملکت جناب محمد ایوب خاں اور گورنر مغربی پاکستان مکرم ملک امیر محمد خاں نے بہت اچھے انداز میں تعزیتی پیغام بھجوائے اس طرح ملکی اور غیر ملکی پریس نے بھی حضور کی ملکی و قومی خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کی وفات کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ان میں سے بعض درج ذیل ہیں۔نوائے وقت ۹۔نومبر ۱۹۶۵ء کے صفحہ اول پر مندرجہ ذیل خبر شائع ہوئی۔احمدیہ فرقہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود انتقال کر گئے۔"۔۔۔۔آپ کو ۱۹۱۴ ء میں جماعت کا سربراہ منتخب کیا گیا۔آپ نے ساری دنیا میں بالعموم اور افریقہ یورپ اور امریکہ میں بالخصوص احمد یہ مشن کھولے۔اس سلسلہ میں آپ دو مرتبہ خود یورپ گئے۔آپ نے کل ۹۶ نئے مشن قائم کئے۔یہ مشن افریقہ کے مغربی ساحل کے ملکوں میں خصوصیت سے عیسائی مشنوں کے مقابلہ میں کام کر رہے ہیں۔تحریک پاکستان کے دوران مرحوم مرزا بشیر الدین محمود احمد نے مسلم لیگ کی حمایت کی۔۱۹۲۲ء میں آریہ سماجیوں نے یوپی میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی جو مہم شروع کی تو مرزا صاحب نے ارتداد کو روکنے کے لئے کافی کام کیا۔آپ نے قرآن پاک کا ایک درجن سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کروایا جن میں ڈچ ، جرمن ، انڈو نیشن اور سواحیل شامل ہیں۔آپ ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر بھی تھے۔۱۹۴۸ء میں آپ نے جہاد کشمیر میں حصہ لینے کے لئے رضا کاروں کی فرقان بٹالین تیار کر کے ہائی کمان کے سپرد کردی۔۔۔۔۔روزنامہ نوائے قوت کی ۱۲۔نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں مشہور صحافی محمد شفیع (م - ش) نے اپنے کالم میں لکھا۔۷۷ سال کی عمر میں ربوہ (مغربی پاکستان) میں سوموار کی صبح کو مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی" کے انتقال سے تاریخ احمدیت کا ایک دور ختم ہو گیا ان کی جگہ ان کے سب سے بڑے بیٹے ۵۶ سالہ مرزا ناصر احمد کو جو آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے ہیں جماعت کا تیسرا ظیفہ منتخب کیا گیا ہے۔انتقال سے بہت عرصہ پہلے خلیفہ دوم نے