سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 524
۵۲۴ دشمن کی اشتعال انگیزی کے بالمقابل اسلامی اخلاق و صفات کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔اشتعال کے موقعہ پر انسان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے پس اپنے ایمانوں کو درست رکھو اور کبھی کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو اسلام اور شریعت کے خلاف ہو تم کو اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن میرے دل میں خلافت کی ایک بکری کی مینگنی کے برابر بھی قیمت نہیں ہو سکتی اگر اس کی تائید کے لئے جھوٹ اور فریب سے کام لیا جائے۔خلافت ای وقت تک قابل قدر ہے جب صداقت کی تلوار سے اس پر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جائے اور انصاف کے تیروں سے اس کی حفاظت کی جائے۔پس یا د رکھو کہ خواہ کیسی ہی حالت پیش آئے تم عدل و انصاف کو نہ چھوڑو اور جو سچائی ہو اسے اختیار کرد تا دشمن کو تمہارے متعلق کسی قسم کے اعتراض کا موقعہ نہ ملے اور یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص تمہیں جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے تو خواہ وہ ناظرہی کیوں نہ ہو تم فورا اس کی رپورٹ میرے پاس کرو کیونکہ ہمارے پاس ایمان کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہم کنگال اور خالی ہاتھ ہیں اگر ایمان کی دولت بھی ہمارے ہاتھ میں نہ رہی او راگر ہم نے اسے بھی چھوڑ دیا تو پھر ہماری حالت وہی ہو گی جو کسی شاعر نے یوں کھینچی ہے کہ خدا ہی وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے پس صداقت اور انصاف سے کام لو اور غیرت قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کرو مگریاد رکھو تم نے ظلم نہیں کرنا اور جھوٹ نہیں بولنا اور اگر کوئی شخص تمہیں ظلم کرنے یا جھوٹ بولنے کی تعلیم دیتا ہے۔۔۔۔تو تم فوراً سمجھ جاؤ کہ تمہارے سامنے ایمان کا جبہ پہنے ایک شیطان کھڑا ہے اور تم فورا سمجھ لو کہ وہ میری نافرمانی کرنے والا اور میری اطاعت سے منہ موڑنے والا انسان ہے۔تم فوراً میرے پاس آؤ اور ایسے شخص کی شکایت کرد اور اس گندے وجود کو کاٹنے کی بلا تردد کوشش کرو ایسا نہ ہو کہ وہ باقی قوم کو بھی گندہ کر (الفضل ۲۴ جولائی ۱۹۳۷ء) دے۔" اسی طرح دعا اور صبر سے کام لینے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔” میری پالیسی یہی ہے کہ صبر سے کام لو اور اینٹ کا جواب اینٹ سے اور پتھر کا