سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 522 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 522

۵۲۲ اس جرات و طاقت کی وجہ سے تھا جو خدائے رحمن کے خاص بندوں کو خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کے وعدوں پر بھروسے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔و مجھ پر ان کا حملہ بتاتا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ میں پُر امن ہوں ورنہ دنیا میں کسی ادنیٰ سے ادنی آدمی پر بھی کوئی شخص اس طرح حملہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا جس طرح مجھ پر حملہ کیا جاتا ہے گویا میں اس وسیع دنیا میں ایک ہی یتیم اور بے بس ہوں جس کی عزت پر حملہ کرنا کوئی نقصان نہیں پہنچا تا مگر دشمن نادان ہے بے شک بظاہر میں ایک ہی یتیم ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان مجھے چھوڑ دیں مگر خدا تعالیٰ مجھے نہیں چھوڑے گا میں نے اس دنیا میں ان لوگوں سے جو میری محبت کا دم بھرتے تھے ظلم پر ظلم دیکھے ہیں مگر ایک ہے جس نے مجھے کبھی نہیں چھوڑا اور اسی کے منہ کے لئے میں یہ سب برداشت کر رہا ہوں۔یہ خلافت میرے لئے پھانسی سے کم ثابت نہیں ہوئی لوگوں نے مجھے تختہ دار پر کھینچا اور فخر کرنے لگے کہ انہوں نے مجھے تخت بخش دیا ہے مگر میرے خدا نے مجھے کہا کہ تو یہ سب کچھ برداشت کر او راف نہ کر کیونکہ تیرے دکھ میرے لئے ہیں نہ کہ بندوں کے لئے۔پس جن کے لئے تیرے دکھ نہیں تیرا حق نہیں کہ ان سے صلہ کا امیدوار ہو۔تیرا کام بندوں کے لئے بغیر اجرت کے ہے مگر تو بے اجرت نہیں چھوڑا جائے گا میں تو تیرے زخموں پر مرہم رکھوں گا اور تیری ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جو ڑ دوں گا۔انسانوں نے بے شک تیرے ساتھ ظلم کیا ہے مگر کیا میری محبت اس کا کافی سے زیادہ بدلہ نہیں اور کیا میری محبت کا دعوی کرتے ہوئے اس کے سوا تجھے کسی اور چیز کی خواہش ہو سکتی ہے۔میرے رب کی یہی آواز ہے جس نے تاریکی کے وقتوں میں میرا ساتھ دیا اور جب میرا دل بیٹھنے کو ہو تا تھا تو اس نے میرے دل کو سہارا دیا ہے ورنہ مجھ پر ہزاروں گھڑیاں آئی ہیں کہ موت مجھے حیات سے زیادہ عزیز تھی اور قبر کا کونہ گھر کے کمروں سے مجھے زیادہ پیارا تھا۔" (الفضل ۲۹۔جولائی ۱۹۳۷ء) دشمنوں کے مقابل پر کسی سازش وغیرہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا آپ نے کبھی کوئی دھمکی تک نہ دی۔ایک شدید معاند کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔"" کہتے ہیں، مجھے خلافت پر گھمنڈ ہے لیکن میری کسی تحریر میں سے ہی کوئی ایسا