سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 521 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 521

۵۲۱ ان کے بڑے بیٹے مستری عبد الکریم کو بلایا اور ان سے کہا تم میری صداقت کا مجھ سے ثبوت مانگتے ہو۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میری صداقت کا تم خود ثبوت ہو۔وہ کہنے لگے کس طرح۔میں نے کہا مرزا ارشد بیگ یہاں موجود ہے اور وہ علانیہ شراب پیتا ہے۔اب تو وہ فوت ہو گیا ہے اور بعد میں اس نے توبہ بھی کرلی تھی۔ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا ہو گا) تم یہ بتاؤ کہ قادیان میں مرزا ارشد بیگ کی زیادہ حکومت ہے یا میرنی۔وہ کہنے لگے آپ کی۔میں نے کہا تو کیا تم میں یہ جرات ہے کہ بازار میں کھڑے ہو کر مرزا ارشد بیگ صاحب کے خلاف ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکال سکو۔پھر میں نے کہا مفتی فضل الرحمن صاحب کی طرف دیکھو (مفتی صاحب بھی فوت ہو چکے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ اس نے مرنے سے پہلے ان کو ہدایت دے دی ہوگی اور ان کو بھی اپنے فضل سے معاف کر دیا ہو گا مگر بہر حال ان میں یہ نقص تھا کہ وہ نماز کیلئے مسجد میں نہیں آتے تھے میں نے کہا کیا تم میں یہ طاقت ہے کہ چوک میں کھڑے ہو کر کہہ سکو کہ مفتی فضل الرحمٰن صاحب نماز میں نہیں آتے۔پھر میں نے کہا یہ دو شخص وہ ہیں جن کی دنیوی لحاظ سے ہمارے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ہم قادیان کے مالک ہیں اور ہمیں دینی لحاظ سے وہ مقام حاصل ہے کہ قادیان کی اکثریت میرے ایک اشارہ پر اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔مگر اس کے باوجود تم میرے خلاف کئی قسم کی باتیں پھیلاتے رہتے ہو لیکن ان دو کے خلاف جن کا میں نے نام لیا ہے تمہیں کبھی جرأت نہیں ہو سکتی کہ ایک لفظ بھی کہہ سکو حالا نکہ سب لوگ ان باتوں کو جانتے ہیں۔جب حالت یہ ہے تو کیا تم نے کبھی سوچا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں میرے متعلق یہ یقین ہے کہ خواہ میرے متعلق تم کچھ کہو میں تمہارے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا لیکن ان کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ اگر ہم نے ایک لفظ بھی ان کے خلاف کہا تو یہ ہمیں سیدھا کر دیں گے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ میں شریف ہوں اور تمہارا اپنا عمل میری شرافت پر ایک زندہ گواہ ہے"۔الفضل ۱۲- فروری ۱۹۴۵ء) دشمن کے سوقیانہ حملوں اور رکیک بازاری الزامات کے مقابل پر آپ کا کوہ و قار بنے رہنا