سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 503
۵۰۳ اور کس کس طرح رقعوں پر رقعے لکھ کر مجھے پریشان کرتے تھے کہ ان لوگوں سے نرمی اور رعایت کی جائے ورنہ فساد بڑھ جائے گا مگر تاؤ پھر وہ لوگ کہاں گئے۔ابھی دو سال کا عرصہ نہیں ہو ا تم میں سے ہر شخص دل پر ہاتھ رکھ کرتا ہے کہ کیا ایک بہت بڑی مصیبت تمہارے سامنے نہیں آئی تھی۔تم کس طرح اس مصیبت کو دیکھ کر گھبرا اُٹھے تھے مگر آج باوجود اس بات کے کہ وہ تمہارے پہلو میں رہتے ہیں تمہیں کوئی پریشانی نہیں تمہیں کوئی تکلیف اور بے چینی نہیں بلکہ آج تو تمہیں ان کی اتنی بھی پرواہ نہیں جتنی سوکھے ہوئے پتے کی ہوتی ہے اور جو راہ چلتے ہوئے پاؤں کے نیچے آ جاتا ہو۔۔۔بهر حال ہماری جماعت چونکہ خلافت کے نظام میں منسلک ہے اس لئے جب بھی کوئی فتنہ اٹھا تو گو بظاہر اس کی شکل ہیبت ناک تھی مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کا نام و نشان مٹ گیا اور یہ سب اس نظام کی برکت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں (الفضل ۲۔اگست ۱۹۳۹ء) قائم ہے۔" اس موضوع پر حضور کے لاتعداد ارشادات میں سے چند ایک بطور خدائی تائید و نصرت نمونہ پیش کئے گئے ہیں۔حضور کے ان بیانات میں جہاں فتنوں کی شدت کا ذکر ہے وہاں ساتھ ہی حضور کے اس ایمان و ایقان کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کو کوئی فتنہ اور کوئی طاقت مرعوب نہیں کر سکتی اور اسی وجہ سے وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کرتا۔اس بات کو سمجھنے کیلئے زیادہ غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ دنیوی یا سیاسی لیڈر تو مخالفت مخالف حالات میں کلیتہ ظاہری سامانوں پر بھروسہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس طرح جلد مایوسی اور ناکامی سے دوچار ہو جاتے ہیں مگر خلیفہ خدائی نصرت و تائید سے بہرہ ور ہوتا ہے اور یہ امر اسے باقی ہر قسم کے رہنماؤں اور لیڈروں سے ممتاز اور نمایاں کر دیتا ہے۔حضور فرماتے ہیں۔خلیفہ وقت کا کام ہے کہ وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح ہو ایسی چٹان کہ دنیا بھر کے سمندر بھی مل کر اسے ہلا نہ سکیں اگر چند منافقوں سے میں ڈر جاؤں اور ایسے موقع پر رحم کرنے پر آمادہ ہو جاؤں جب کہ رحم مناسب نہیں تو میں اپنی خلافت کی ذمہ داریوں میں کو تاہی کرنے والا ہوں گا مجھے یہ چند منافق کیا اگر دنیا کی حکومتیں بھی مل کر ایک مقصد سے ہٹانا چاہیں تو نہیں ہٹا سکتیں اور اگر میں یا کوئی اور خلیفہ اس لئے نرمی کرے کہ لوگ اسے مجبور کرتے ہیں تو یقینا وہ خدا کا قائم کردہ خلیفہ نہیں ہو سکتا۔رحم ہمارا کام ہے۔