سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 39
۳۹ کا سانس رُک جاتا ہے اور وہ مُردہ وجود کے طور پر دنیا کے سامنے آتا ہے۔۔۔اب یہ ہماری قربانی اور ایثار ہی ہوں گے جن کے نتیجہ میں ہم قومی طور پر زندہ پیدا ہوں گے یا مُردہ۔اگر ہم نے قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا اور ایثار سے کام لیا اور تقویٰ کی راہوں پر قدم ما را محبت اور کوشش کو اپنا شعار بنایا تو خدا تعالیٰ ہمیں زندہ قوم کی صورت میں پیدا ہونے کی توفیق دے گا اور اگلے مراحل ہمارے لئے آسان کر دے گا۔" آگے چل کر فرمایا۔خوب یا د رکھو جس دن قوم کی قربانی بند ہوئی وہی دن اس قوم کی موت کا ہے۔۔۔اگر ہم ساری دنیا کو فتح بھی کر لیں پھر بھی ہمیں اپنے ایمان کو سلامت رکھنے اور اپنے ایمان کو ترقی دینے کے لئے قربانیاں کرتے رہنا ہو گا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ جماعت ایک نازک ترین دور میں سے گزرنے والی ہے اس لئے اپنے ایمان کی فکر کرو کسی شخص کا یہ سمجھ لینا کہ دس پندرہ سال کی قربانی نے اس کے ایمان کو محفوظ کر دیا ہے اس کے نفس کا دھوکا ہے۔جب تک عزرائیل ایمان والی جان لے کر نہیں جاتا جب تک ایمان والی جان ایمان کی حالت میں ہی عزرائیل کے ہاتھ میں نہیں چلی جاتی اس وقت تک ہم کسی کو محفوظ نہیں کہہ سکتے خواہ وہ شخص کتنی بڑی قربانیاں کر چکا ہو اگر وہ اس مرحلہ میں پیچھے رہ گیا تو اس کی ساری قربانیاں باطل ہو جائیں گی اور وہ سب سے زیادہ ذلیل انسان ہو گا کیونکہ چھت پر چڑھ کر گرنے والا انسان دوسروں سے زیادہ ذلت کا مستحق ہوتا ہے۔" الفضل ۶۔ستمبر ۱۹۴۵ء) حضور کے مندرجہ ذیل بیان سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ آنے والے ہولناک واقعات کو اپنی چشم بصیرت سے دیکھ کر جماعت کو اس کے لئے تیار کر رہے تھے۔جن خطرات میں سے اس وقت ملک گزر رہا ہے اور جن خطرات میں سے اس وقت ہماری جماعت گزر رہی ہے ان میں سے جو خطرات ظاہر ہیں وہ سب دوستوں کو معلوم ہیں مگر بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جو آپ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہیں اور میں ان باتوں کو اس لئے ظاہر نہیں کرتا کہ کہیں کمزور لوگ دل نہ چھوڑ بیٹھیں ورنہ ان دنوں ہماری جماعت ایسے خطرات میں سے گزر رہی ہے کہ ان کے تصور سے مضبوط سے مضبوط