سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 439 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 439

۴۳۹ منکروں پر غالب رہیں گے۔یہ خدا کا وعدہ ہے جو اس نے میرے ساتھ کیا۔میں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے بے شک دو دن بھی زندہ نہ رہوں مگر یہ وعدہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا جو خدا نے میرے ساتھ کیا کہ وہ میرے ذریعہ سے اشاعت اسلام کی ایک مستحکم بنیاد قائم کرے گا اور میرے ماننے والے قیامت تک میرے منکرین پر غالب رہیں گے۔اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ میرے ماننے والوں پر میرے انکار کرنے والے غالب آ گئے تو بے شک تم سمجھ لو کہ میں ایک مفتری تھا لیکن اگر یہ خبر سچی نکلی تو تم خود سوچ نو تمہارا کیا انجام ہو گا کہ تم نے خدا کی آواز میری زبان سے سنی اور پھر بھی اسے قبول نہ الفضل ۸- اپریل ۱۹۷۴ء صفحه ۳۴۲) کیا۔قومی زندگی اور تیزی و ترقی کے لئے قربانی اتنی ہی ضروری ہے۔جتناز ندگی کے لئے سانس یا جسم کے لئے ریڑھ کی ہڈی۔قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت مصلح موعود نے اپنی تقاریر و تصانیف میں اس امر کی طرف بڑی کثرت سے توجہ دلائی ہے۔ذیل میں حضور کا ایک خطبہ عید الاضحی پیش کیا جاتا ہے جس سے حضور کا انداز بیان بھی نمایاں ہوتا ہے اور قربانی کی ضرورت و اہمیت بھی۔حضور کے ایسے ہی خطبات جماعت کے اندر جوش و جذبہ اور ولولہ پیدا کرنے کا باعث بنتے تھے۔"عید الاضحیہ ہمیں ایسی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے جو انسانی احساسات کے لحاظ سے نازک ترین جذبات کی قربانیاں کہلاتی ہیں۔دنیا میں انسان ہر روز ہی قربانیاں کرتا ہے اور قربانیاں کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔اس میں نیک اور بد کی کوئی تمیز نہیں ہے ، محنتی اور آوارہ گرد کی کوئی تمیز نہیں ہے ، ایک با اصول اور عیاش انسان کی بھی کوئی تمیز نہیں ہے صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی اچھی چیز کے لئے قربانی کرتا ہے اور کوئی بری چیز کے لئے قربانی کرتا ہے۔ان تمام قربانیوں پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بھاری قربانی انسان کے لئے اپنی اولاد کی قربانی ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض انسان جن کی فطرت مرجاتی ہے اور جو انسانیت سے خارج ہو جاتے ہیں ان میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے عیش اور اپنی لذت کی خاطر قربان کر دیتے ہیں لیکن یہ استثنائی وجود ہوتے ہیں اور در حقیقت اپنی مردہ فطرت کے لحاظ سے انسانوں میں شمار ہونے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔”فطرت انسانی کا اصل جو ہر انسانوں کی اکثریت سے معلوم کیا جا سکتا ہے اور اگر