سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 429 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 429

۴۲۹ نام تو کل رکھتے ہیں وہ ان کی بے عملی کا نشان ہے۔آپ لوگوں کو ایسی محنت اور مشقت سے کام کرنا چاہئے کہ وہ باقی لوگوں سے مقابلہ میں بہت بڑھ کر ہو۔۔۔۔اور یہ یادر کھیں کہ وہ عمل جس کے ساتھ ستی چھا جاتی ہے عمل نہیں۔عمل وہی ہے جس کے ساتھ بشاشت پیدا ہو۔پس محنت سے کام کرو۔اپنی ہمتوں کو بلند کرو اور یقین رکھو کہ اب دنیا کی نجات تم سے وابستہ ہے۔“ الفضل ۳ مارچ ۱۹۳۲ء) علم کی ترویج و اشاعت کی طرف حضور کو خاص توجہ رہتی تھی اور اس سلسلہ میں ہمارے آقا نے وقتاً فوقتاً جماعت میں جو تحریکات جاری فرما ئیں ان کے نتیجہ میں افراد جماعت نے بالعموم اور احمدی خواتین نے بالخصوص غیر معمولی علمی ترقی حاصل کی یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں خواندگی کی شرح کی نسبت سے جماعت میں خواندگی کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات کے موقع پر حضور نے جماعت کی علمی ترقی کی طرف بڑے پر زور طریق پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :۔یاد رکھو مومن بہادر ہوتا ہے اور بہادر انسان کا یہ کام نہیں ہو تاکہ جب کوئی ابتلاء آئے تو وہ رونے لگ جائے یا اس پر افسوس کرنے بیٹھ جائے۔بہادر آدمی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ فورا اپنی غلطی کو درست کرنا شروع کر دیتا ہے اور نقصان کو پورا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔وہ شخص جو رونے لگ جاتا ہے مگر اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کرتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کامیاب ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو ابتلاء کے بعد اپنے آپ کو ایسے رنگ میں تیار کرنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور باہمت ہو جاتا ہے۔ہمارے لئے جو ابتلاء آئے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑا تازیانہ ہیں کہ تم کیوں ایسی حالت میں بیٹھے ہوئے ہو کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے تو تم کہتے ہو اب کیا ہو گا۔تم کیوں اپنے آپ کو اس حالت میں تبدیل نہیں کر لیتے کہ جب کوئی شخص مشیت ایزدی کے ماتحت فوت ہو جائے تو تمہیں ذرا بھی یہ فکر محسوس نہ ہو کہ اب سلسلہ کا کام کس طرح چلے گا بلکہ تم میں سینکڑوں لوگ اس جیسا کام کرنے والے موجود ہوں۔ایک غریب شخص جس کے پاس ایک ہی کوٹ ہو اگر اس کا کوٹ ضائع ہو جائے تو اسے سخت صدمہ ہوتا ہے لیکن ایک امیر شخص جس کے پاس پچاس کوٹے ہوں اس کا اگر ایک تا۔کوٹ ضائع بھی ہو جائے تو اسے خاص صدمہ نہیں ہو تا کیونکہ وہ جانتا ہے میرے پاس