سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 428
۴۲۸ نہیں ہو سکتی۔۔۔۔کارکنوں کا فرض ہے کہ جو کام ان کے سپرد ہو اسے نیک نیتی سے کریں اور ایسے طریق سے کریں جس سے نیک نتیجہ نکلنے کی امید ہو لیکن اگر باوجود اس کے پھر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو جو کچھ صرف ہوا اسے ضائع نہیں قرار دیں گے بلکہ وہ ایسا ہی ہو گا جیسے کھیت میں بیچ وہ کسی نہ کسی وقت پھل لائے گا۔" (الفضل ۲۶۔جنوری ۱۹۲۶ء) قربانی اور محنت کے صحیح نتائج حاصل کرنے اور ناکامی و مایوسی کے اندھیروں سے نکلنے کا طریق بتاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔” ہمارے نوجوانوں کو ذہین بننا چاہئے اور ان کی نظر وسیع ہونی چاہئے وہ جب بھی کوئی کام کریں انہیں چاہئے کہ اس کے سارے پہلوؤں کو سوچ لیں اور کوئی بات بھی ایسی نہ رہے جس کی طرف انہوں نے توجہ نہ کی ہو۔یہی نقص ہے جس کی وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ روحانیت میں بھی ہمارے آدمی بعض دفعہ فیل ہو جاتے ہیں اور وہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر ہمیں خدا تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہوتی۔حالانکہ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ صرف نمازیں پڑھنے سے خدا تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ اس کا قرب انسان کو حاصل ہو سکتا ہے حقیقی دین تو ایک مکمل عمارت کا نام ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم مکمل عمارت کا فائدہ صرف ایک دیوار سے حاصل کرنا چاہتے ہو تم خود ہی بتاؤ اگر کسی قلعہ کی تین دیوار میں تو ڑ دی جائیں اور صرف ایک دیوار باقی رہنے دی جائے تو کیا اس ایک دیوار کی وجہ سے اس قلعہ کے اندر رہنے والا محفوظ رہ سکتا ہے حقیقتاً جب تک اس کی چاروں دیوار میں مکمل نہیں ہوں گی اس وقت تک قلعہ کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب محض نمازوں سے حاصل نہیں ہو تا بلکہ اور جس قدر احکام اسلام ہیں ان سب پر عمل کرنے کے بعد ہوتا ہے۔" (الفضل ۲۱۔مارچ ۱۹۳۹ء) کامیابی کیلئے محنت بلند ہمتی اور یقین لازمی امور ہیں۔اس طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہ جس کو امید سمجھتے ہیں وہ ان کی سستی ہوتی ہے اور جس کا