سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 418
۴۱۸ میں منہمک رہے بلکہ آپ ایک عالم گیر تحریک کے ایسے فعال و متحرک رہنما تھے جسے اپنی جماعت کے لاکھوں افراد سے رابطہ رکھنا ہو تا تھا۔جسے ان کے ذاتی امور تک میں رہنمائی کرنا ہوتی تھی۔جماعت کا ہر فرد اپنی عقیدت و محبت کی وجہ سے اس بات کو اپنے لئے خوش قسمتی اور سعادت سمجھتا تھا کہ حضور مجھے جانتے اور پہچانتے ہیں۔اسی محبت کی وجہ سے ہر احمدی اپنے نوزائیدہ بچے کا نام رکھوانے اور اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے لئے دعا کی درخواست کرنے سے لیکر ہر خوشی و غم کے موقع پر حضور کو اس میں شامل کرنا اور حضور کی توجہ اور دعا حاصل کرنا اپنے لئے سکون بخش اور موجب سعادت و برکت گردانتا تھا۔شدید مخالفت کے طوفانی تھپیڑوں میں جماعت کی حفاظت و رہنمائی ، جماعت کی بہتری و ترقی کے پروگرام بنانا۔ان پر جماعت کو چلانا اور اس کی نگرانی کرنا ایک مستقل اور مسلسل ذمہ داری تھی۔دنیا بھر میں پھیلے ہوئے افراد جماعت تو حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست کرنا حل مشکلات کا ذریعہ سمجھتے ہی تھے۔ایسے لوگوں کی بھی کمی نہ تھی جو جماعت سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود اس مقصد کیلئے خط لکھتے رہتے تھے۔اس طرح روزانہ ملنے والے خطوط کی تعداد سینکڑوں خطوط سے متجاوز ہوتی تھی۔بنی نوع انسان کی محبت اور انسانیت کے احترام اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پاسداری کرتے ہوئے ہر خط کو پڑھنا اور اس کا جواب دینا اور خطوط میں بیان کی گئی مشکلات کے حل کی تجاویز بھجوانا اور پیش کردہ ضروریات کو حتی الامکان پورا کرنا حضور نے اپنے لئے ضروری قرار دے رکھا تھا۔روزانہ پانچوں نمازوں کی امامت ہی بہت سا وقت لے لیتی ہے اس کے علاوہ راتوں کو اٹھ کر دعا اور گریہ و زاری بھی آپ کے معمولات میں شامل تھی اس طرح دن رات کی کبھی ختم نہ ہونے والی ایسی مصروفیت تھی جو اپنی مثال آپ ہے اس پر طرہ یہ کہ یہ مصروفیات جو کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہیں ان میں ہفتہ میں یا مہینہ میں یا سال میں بلکہ زندگی بھر کے تمام سالوں میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ہنگامی اور وقتی کام ان تمام مصروفیات پر زائد تھے اور پھر یہ بھی کہ آپ کی صحت بچپن سے ہی کمزور رہتی تھی اور کوئی نہ کوئی بیماری و علالت بھی دامنگیر رہتی تھی۔ایسی صورت میں علمی کتب کی تصنیف اور پر معارف مضامین کا بیان ایسا محیر العقول کارنامہ ہے کہ اس ایک خدمت کو دیکھ کر ہی یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی