سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 413 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 413

۴۱۳ پاکستانی اپنے افریقن بھائیوں کو اپنے عزیز و اقارب کی طرح دیکھتے ہیں میں افر قنوں سے بھی اسی قربانی کی توقع رکھتا ہوں اور آپ سے کہتا ہوں کہ آپ تبلیغ کریں اور پیغام اسلام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیں۔ربوہ ہمیشہ آپ کا انتظار کرے گا کہ آپ گولڈ کوسٹ (غانا) کے ہر فرد کو احمدیت کی آغوش میں لے آئیں جو حقیقی اسلام اور خدا کا دین ہے۔" (ریویو آف ریلیجز ستمبر ۱۹۵۵ء) اپنے روحانی ورثہ کے حصول کی بڑے ہی موثر انداز میں تلقین کرتے ہوئے ہمارا اخلاقی ورثہ آپ فرماتے ہیں۔لوگ اپنے باپ کی زمینوں اور مکانوں کو نہیں چھوڑتے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک جاتے ہیں کہ ہمارا اور یہ ہمیں دلوایا جائے اگر مسلمانوں میں سے کوئی بد بخت اپنے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ کے ورثہ کو نظر انداز کرتا ہے تو اس پر افسوس ہے اس کو تو فیڈرل کورٹ تک نہیں عرش کی عدالت تک اپنے مقدمہ کو لے جانا چاہئے اور اپنا ورثہ لیکر چھوڑنا چاہئے اگر وہ ہمت نہ ہارے گا اگر وہ دل نہ چھوڑے گا تو محمد رسول اللہ لی لی ہے اور نہ اس کو ملے گا اور ضرور ملے گا۔صاحب العرش کی عدالت کسی کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتی۔" الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۵۵ء)