سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 404
۴۰۴ برادران جماعت احمدیہ ہندوستان! السلام علیکم و رحمہ اللہ وبرکاتہ۔پارٹیشن کے بعد اکثر حصہ جماعت کا پاکستان آگیا اور ادھر جماعت بہت کم رہ گئی۔مگر بڑا نقص یہ ہوا ہے کہ جماعت کے اکثر حصہ اور خود میرے ادھر آجانے کی وجہ سے وہ جوش اور اخلاص ہندوستانی جماعت میں نہیں رہا جو پہلے ہو تا تھا۔اے عزیز و امذ ہب کا تعلق کسی شخص یا چند افراد سے نہیں ہو تا بلکہ ہر شخص کا تعلق خدا تعالیٰ سے براہ راست ہے۔پس ہمت کرو اور دلوں کو مضبوط کرو اور تبلیغ کو وسیع کرو اور اپنے ارد گرد کے ہر مذہب اور ملت کے آدمیوں تک پیغام حق پہنچاؤ۔خصوصاً قادیان کی جماعت کو چاہئے کہ اپنے ارد گرد کے ہندوؤں اور سکھوں سے ایسے گھل مل کر رہیں اور ایسے پریم و محبت سے رہیں کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ احمدی ان کی ترقی کے خواہاں ہیں ان کے بدخواہ نہیں۔حضرت بادا نانک کو دیکھو کہ کس طرح اکیلے اٹھے اور خالص اسلامی علاقوں ملتان اور ہزارہ (تک) چلے گئے وہاں دعائیں کیں اور چلہ کشیاں کیں اور اپنے سے محبت پیدا کرنے والے لوگ پیدا کر لئے۔تم بھی اگر خداتعالی سے تعلق پیدا کرو گے اور تجد اور ذکر الہی پر زور دو گے تو تمہارے ارد گرد کے رہنے والے لوگ تم سے دعائیں کروائیں گے تم سے محبت کریں گے اور تمہاری بزرگی کا اثر ان کے دلوں پر ہو گا۔اب تم میں سے ہر شخص یہ بھول جائے کہ وہ زید یا بکر ہے۔بلکہ یہ یقین کر لے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ اور رسول کریم میہ کا اس ملک میں نمائندہ ہے۔پس اپنے مقام کو سمجھو اور مجھے یہ خوش خبریاں بھجواؤ کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری زبانوں میں اثر دیا ہے اور جوق در جوق لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اور تمہارے ایمانوں میں اتنی طاقت دی ہے کہ مالی حالت روز بروز درست ہوتی جارہی ہے اور تبلیغ کا سلسلہ وسیع ہو رہا ہے۔" بدر قادیان ۷۔جنوری ۱۹۵۶ء) حضرت مصلح موعود منصب خلافت پر فائز ہوئے تو جماعت قربانی کی ضرورت و اہمیت ظاہری لحاظ سے بہت تھوڑی اور کمزور تھی جماعت کی تعداد بہت محدود تھی۔مالی حالت کسی طرح بھی تسلی بخش نہ تھی تاہم حضرت مسیح موعود کی صحبت سے فیض یافتہ افراد کی موجودگی کی وجہ سے حضرت مصلح موعود کی شدید خواہش اور کوشش تھی کہ آپ