سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 32
۳۲ اور اسے تو بہ ٹوٹنے نہیں دیتی۔رسول کریم میں ان کی اہلیہ نے فرمایا ہے جب کوئی مومن چوری کرتا ہے یا زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان اس کے سر پر معلق ہو جاتا ہے اور جب وہ ایسا فعل کر چکتا ہے تو پھر اس میں داخل ہو جاتا ہے۔اس سے بتایا کہ تو بہ کرنے والے کا ایمان کلی طور پر اسے نہیں چھوڑتا۔اس کی غلطی کی وجہ سے نکل جاتا ہے مگر پھر تو بہ کرنے سے لوٹ آتا ہے۔پس دعائیں کرتے رہو میرے لئے بھی ، تمام مبلغین کیلئے بھی اور سب احمدیوں کیلئے بھی۔بے شک خدا تعالیٰ کے میرے ساتھ وعدے ہیں لیکن میری طاقت تمہارے ذریعہ ہے پس اپنے لئے دعاؤں کرو اور میرے لئے بھی۔اب کے تو خلافت جوہلی کی وجہ سے اتنے لوگ جمع ہوئے کوشش کرو کہ جماعت اتنی بڑھ جائے کہ اگلے سال یوں بھی اتنے لوگ جمع ہو سکیں۔پھر غیروں کے لئے بھی دعائیں کر د۔ان کے متعلق اپنے دلوں میں غصہ نہیں بلکہ رحم پیدا کرو۔خدا تعالیٰ کو بھی اس شخص پر رحم آتا ہے جو اپنے دشمن پر رحم کرتا ہے۔پس تم اپنے دلوں میں ہر ایک کے متعلق خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرو۔انہی دنوں ایک وزیری پٹھان آئے اور کہنے لگے دعا کریں انگریز دفع ہو جائیں۔میں نے کہا ہم بد دعا نہیں کرتے۔یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ہو جائیں۔پس کسی کے لئے بد دعانہ کرو کسی کے متعلق دل میں غصہ نہ رکھو۔بلکہ دعائیں کرو اور کوشش کرو کہ اسلام کی شان و شوکت بڑھے اور ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔۔اس موقع پر میں ان لوگوں کیلئے بھی دعا کرتا ہوں جنہوں نے تاروں کے ذریعہ دعاؤں کے لئے لکھا۔ان کے نام نہیں پڑھ سکتا۔کیونکہ وقت تنگ ہو رہا ہے۔آپ لوگ ان کے لئے اور دوسروں کیلئے اور اسلام و احمدیت کیلئے دعا کریں۔" قادیان اور جماعت کی ترقی برابر جاری تھی۔تبلیغ اسلام اور دعوت الی اللہ کا کام روز افزوں تھا۔قادیان اور اس کے ماحول میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ "مقامی تبلیغ" کے تجربه کار کارکن سرگرم عمل تھے ، ہندوستان بھر میں تبلیغی جہاد جاری تھا، بیرون ہند بھی تبلیغی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں، تحریک جدید کے مجاہد نے ولولوں اور عزائم کے ساتھ بیرونی ممالک میں دعوت اسلام کا فریضہ ادا کرنے کیلئے جا رہے تھے ، ایک وقت میں یورپ کیلئے نو مبلغین روانہ ہوئے (۱۸۔دسمبر ۱۹۴۵ء) تو ساری دنیا پر یہ تبلیغی بر اثر انداز ہوئی۔یورپ کے پریس نے عیسائیت