سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 33
۳۳ کے موجودہ مرکز کی طرف اسلامی یلغار دیکھ کر تو حیرت کا اظہار کرنا ہی تھا اسلامی پرئیس مثلا مصر کے مشهور مجلہ اخبار " العالم" نے ہمارے مبلغین کی تصاویر نمایاں طور پر شائع کیں اور جماعت کی تبلیغی مساعی کو خراج تحسین پیش کیا۔اسی طرح ایک اور اخبار اليوم" نے بھی یہ خبر بڑی تفصیل۔شائع کی اور حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب (جو اس زمانہ میں امام مسجد لندن تھے ) کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا۔ایک اور اخبار الرساله والروایہ " (۴۔مارچ ۱۹۴۶ء) نے نہ صرف اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا بلکہ بڑی حسرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ یہ تو ہمارا فرض تھا۔نہ جانے ہم اپنا یہ فرض ادا کرنے کے قابل کب ہونگے ؟ (الفضل 11 مئی ۱۹۴۶ء) تعلیمی و تربیتی اغراض سے قادیان اور قادیان کے ماحول میں پرائمری سکولوں کا ایک جال بچھا دیا گیا۔احمدیوں کے نیک نمونہ اور خدمت خلق کی وجہ سے سارے علاقہ میں جماعت کا ایک پُر وقار مقام تھا۔جماعت کے باہم تعاون و اتحاد کو مثالی رنگ حاصل تھا اور عام لوگ بھی اس سے متاثر تھے اور اس بات کا برملا اعتراف کرتے تھے۔جماعتی اثر و رسوخ کا ایک شاندار مظاہر ہ ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں ہوا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے قومی مفاد میں مسلم لیگ کی پر زور حمایت و امداد کی اور مسلم لیگ بڑی بھاری اکثریت سے مسلم علاقوں میں انتخاب جیت گئی۔یاد رہے کہ انہیں انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان کے قیام کی راہ ہموار ہو سکی تھی۔اس کی تفصیل آئندہ ابواب میں پیش کی جائے گی۔