سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 358
۳۵۸ خرید سکے۔بیرونی جماعتیں ان حالات سے ناواقف تھیں وہ گورنمنٹ کے اعلانوں کو سن کر کہ ہر طرح امن ہے اور خیریت ہے خوش ہو جاتی تھیں۔" (المصلح کراچی ۱۴۔جولائی ۱۹۵۳ء) حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی گرفتاری ۱۹۵۳ء کے روح فرسا اور اندوہناک واقعات میں بے گناہ احمدیوں کو پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتارنا باپ کے سامنے اس کے بیٹے کو شرمناک قسم کی اذیتیں دے دے کر ختم کرنا ، زخمی پیاسوں کے منہ میں پانی کی بجائے ریت ڈالنا وغیرہ شامل ہیں۔جماعت صحابہ کرام جیسی یہ قربانیاں غیر معمولی اخلاص و فدائیت کے ساتھ پیش کر رہی تھی مگر وہ واقعہ فاجعہ جس نے دنیا بھر کی احمدی جماعت کو ہلا کر رکھ دیا وہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی یکم اپریل ۱۹۵۳ء کو لاہور سے گرفتاری تھی۔اگر مخالفین کو یہ اندازہ ہو تاکہ وہ اپنی اس کارروائی سے جماعت کے زخمی دلوں پر نمک پاشی کر کے وہ کیفیت پیدا کر رہے ہیں جس میں دل و دماغ کے سوزو گداز اور آنکھوں کے اشکوں سے متى نَصْرُ اللہ کی صداد فریاد نکلتی اور عرش الہی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے تو شاید وہ اس عاقبت نا اندیشی سے بازہی رہتے۔فوجی عدالت نے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو ایک سال قید با مشقت اور پانچ ہزار روپے جرمانہ اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ( جو ۱۹۶۵ء میں جماعت کے خلیفہ بنے) کو پانچ سال قید بامشقت اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔یہاں اس امر کی وضاحت کی تو کوئی ضرورت نہیں کہ ان ہر دو بزرگ ہستیوں نے کسی قانون شکنی یا فساد وغیرہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اسی موقع پر کہا تھا " چلاؤ کوئی جا کے مزار مسیح نصرت جہاں کی گود کے پالوں کو لے گئے؟ قادیان کے درویشوں نے تو مزار مسیح پر جا کر گریہ وزاری کو انتہا تک پہنچایا ہی ہو گا۔دنیا بھر کے احمدیوں نے بھی اس میں کوئی کمی نہ رہنے دی۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی عاجزانہ دعاؤں کو شرف قبول بخشا اور ۲۸۔مئی ۱۹۵۳ ء کو ان کی رہائی عمل میں آگئی۔اس سنت یو سفی کی پیروی کی سعادت حاصل ہونے پر ہر دو بزرگوں نے ایمان و توکل اور وقار و دلجمعی کا مثالی مظاہرہ فرمایا جس