سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 359 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 359

۳۵۹ سے اپنے اور بیگانے بہت متاثر ہوئے۔یہ گورنمنٹ کے بعض افسروں کی طرف سے اس بات کا بخوبی علم ہونے کے باوجود کہ جماعت امن پسند ہے اور کسی پر ظلم نہیں کر رہی بلکہ اس پر ظلم و زیادتی ہو رہی ہے جماعت کو ہی دبانے کی کوشش کی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے ۱۲۔مارچ ۱۹۵۳ء کو ایسے بیانات شائع کرنے پر پابندی لگادی جن میں راست اقدام وغیرہ کا ذکر ہو۔گورنر پنجاب نے بھی ۱۸۔مارچ کو حضور پر تقریر کرنے یا بیان یا رپورٹ شائع کرنے پر پابندی لگادی۔گورنر کا یہ حکم 19 مارچ کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس جھنگ کے ذریعہ حضور تک پہنچایا گیا۔ہمارے آقا نے یہ نوٹس ملنے پر خدا تعالی پر ایمان و توکل کا نہایت شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا۔" آپ اس وقت اکیلے مجھ سے ملنے آئے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس کئے بغیر میرے پاس پہنچ گئے ہیں اسی لئے کہ آپ کو یقین ہے کہ گورنمنٹ آپ کی پشت پر ہے۔پھر اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ گورنمنٹ کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے حکومت آپ کی مدد کرے گی تو کیا میں جو خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں مجھے یقین نہیں ہونا چاہئے کہ خدا میری مدد کرے گا۔بے شک میری گردن آپ کے گورنر کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کے گورنر کی گردن میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔آپ کے گورنرنے میرے ساتھ جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا اب میرا خدا اپنا ہاتھ دکھائے گا۔" (الفضل ۵۔ستمبر ۱۹۵۸ء) مذکورہ بالا پابندی مسٹر آئی۔آئی چندریگر کے زمانہ میں لگائی گئی تھی۔حضور کے مندرجہ بالا شوکت بیان کے مطابق ان کی گردن جلد ہی ناپ لی گئی اور ان کی جگہ میاں امین الدین صاحب پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے اور انہوں نے یکم مئی ۱۹۵۳ء کو یہ غیر منصفانہ نوٹس واپس لے لیا۔(المصلح کراچی ۵ - مئی ۱۹۵۳ء) اس سے قبل قصر خلافت اور بعض معزز احمدیوں کی ربوہ اور بیرون ربوہ خانہ تلاشی بھی ہوئی اور حکومت کو کسی جگہ بھی کوئی قابل اعتراض مواد نہ ملا۔اس تلاشی کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے ایک موقع پر فرمایا۔”انہی ایام میں جب کہ ابھی فتنہ کے آثار باقی تھے سپریٹنڈنٹ پولیس ضلع جھنگ ڈی ایس پی کو ساتھ لے کر میرے مکان کی تلاشی کے لئے آئے چونکہ (وہ۔۔۔۔۔۔گورنر