سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 350 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 350

۰۵۶ بعد میں نے اس کام کے کرنے سے معذرت پیش کر دی اور کہا کہ میرے عقیدہ کے مطابق یہ طریق اس وقت اسلامی فرقوں میں اختلاف و انشقاق بڑھانے والا ہے۔اس شخص نے مجھ سے کہا کہ قادیانی تو مسلمان ہی نہیں اور ہندوستان کے تمام فرقوں کے علماء انہیں کافر قرار دے چکے ہیں۔میں نے اس سے کہا کہ ہندوستانی علماء کے اقوال قرآن مجید کی اس آیت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنَّا کہ جو شخص تمہیں السلام علیکم کہے اس کو کا فرمت کہو۔میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ شخص غضب ناک ہو گیا اور کہنے لگا کہ معلوم ہو تا ہے کہ قادیانی پراپیگنڈے نے تمہارے دل پر بھی اثر کر دیا ہے اور تو قادیانی بن گیا ہے اور اسلام سے خارج ہو گیا ہے اسی لئے تو ان کی طرف سے جواب دے رہا ہے۔میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ جناب یقین جانیں کہ میں اتنے لمبے عرصہ سے مسلمان کہلانے اور مسلمانوں میں رہنے کے باوجود یہ دعوی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں صحیح معنوں میں مسلمان ہوں تو کیا قادیانیت کے متعلق چند کتب کا مطالعہ مجھے قادیانی بنا سکتا ہے؟ میں جن دنوں اس سفارت خانہ میں جایا کرتا تھا مجھے معلوم ہوا کہ میں اکیلا ہی اس کام کے لئے مقرر نہیں کیا جارہا بلکہ کچھ اور لوگوں کو بھی اس میں شریک کیا جارہا ہے۔پھر مجھے یہ بھی پتہ لگا کہ اس کام کے کرنے سے صرف میں نے ہی انکار نہیں کیا بلکہ بعض دوسرے لوگوں نے بھی استعمار کا آلہ کار بننے سے انکار کر دیا تھا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب ۱۹۴۸ء میں ارض مقدسہ کا ایک حصہ کاٹ کر صیہونی حکومت کے سپرد کر دیا گیا تھا اور اسرائیلی سلطنت قائم ہوئی تھی اور میرا خیال ہے مذکورہ بالا سفارت خانه کا یہ اقدام در حقیقت ان دو ٹریکٹوں کا عملی جواب تھا جو تقسیم فلسطین کے موقع پر اسی سال جماعت احمدیہ نے شائع کئے تھے۔ایک ٹریکٹ کا عنوان هَيْئَةُ الْأُمَمِ الْمُتَّحِدَةِ وَ قَرَارُ تَقْسِيْمِ فَلَسْطِيْنَ تھا جس میں مغربی استعماری طاقتوں اور صیہونیوں کی ان سازشوں کا انکشاف کیا گیا تھا جن میں فلسطینی بندر گاہوں کے یہودیوں کو سپرد کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔دوسرائریکٹ " الْكُفْرُ مِلَّةً وَاحِدَةً" کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو کامل اتحاد اور اتفاق رکھنے کی ترغیب افکار