سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 346
۳۴۶ بالمقابل مودودی جماعت کے کئی آدمی اس جرم میں پکڑے بھی گئے مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔پھر الزام لگانے سے پہلے یہ بھی تو دیکھ لیا جاتا کہ کون کون سے احمدی افسر ایسے ہیں جو بھرتی کرنے کے قابل ہیں۔کوئی فائیننشل Financial کمشنر احمدی نہیں ہے۔کوئی ڈپٹی کمشنر احمدی نہیں ہے۔مہاجرین کو زمین تقسیم کرنے والا کوئی اعلیٰ افسر احمدی نہیں ہے۔پھر یہ ناجائز الاٹمنٹ کرنے والا اور احمدیوں کو بھرتی کرنے والا ایسا احمدی افسر کون ہے ؟ پھر یہ بھی تو سوچنے والی بات ہے کہ اگر احمدی افسر نا جائز الا ٹمٹیں کرتے تو سب سے پہلے وہ مجھے فائدہ پہنچانے کی کو شش کرتے لیکن مجھے تو انہوں نے کچھ نہ لے کر دیا بلکہ میری جو زمین قادیان میں تھی اس کے کاغذات ابھی ادھر ادھر ہی پھر رہے ہیں۔گو احراری تو کہہ رہے ہیں کہ مجھے دس ہزار مربعے ملے ہیں۔مگر مجھے دس ہزار مربعے چھوڑ دس مرتبان بھی نہیں ملے۔یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ حکومت نے بغیر تحقیقات کے یہ الزام ہماری جماعت پر لگا دیا ہے اور انصاف کا طریق یہی ہے کہ حکومت اس کی پوری پوری تحقیقات کرے۔اگر کسی احمدی افسر کے متعلق یہ الزام درست ثابت ہو تو بے شک اسے سخت سے سخت سزا دے لیکن اگر یہ غلط ثابت ہو تو پھر اس کی تردید کرے اور اعلان کرے کہ یہ الزام غلط ہے۔حضور نے فرمایا کو الزام تو ہم پر لگایا جاتا ہے کہ احمدی افسر اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے احمدیوں کی مدد کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں احمدیوں سے تعصب برتا جاتا ہے اور ان کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس طرح ان کی حق تلفی کی جاتی ہے اور اس حق تلفی پر پر وہ ڈالنے کے لئے ان احمدیوں پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ہم حکومت کے سامنے کئی ایک ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں جب کہ مختلف محکموں میں احمدیوں کو ملازمت یا ترقی سے صرف اس لئے محروم کیا گیا کہ وہ احمدی ہیں۔حالانکہ ان کی تعلیم ، تجربہ ، قابلیت اور گذشتہ ریکارڈ ان کے حق میں تھے لیکن ہم نے ان حق تلفیوں پر کبھی شور نہیں مچایا کیونکہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس قسم کی حق تلفی اور تعصب کا بہترین علاج نیہ ہے کہ ہم اپنی تعلیم ، قابلیت محنت، دیانت داری اور اچھے اخلاق کے معیار کو اور بلند کر کے ان