سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 336
۳۳۶ فسادات اور شرانگیزی کے ان ایام میں سب سے زیادہ اے غلام مسیح الزماں ہاتھ اُٹھا بوجھ ہمارے پیارے امام پر تھا۔آپ ہر چہار طرف سے احمدیوں پر ٹوٹنے والے مصائب کی خبریں سن رہے تھے۔جماعت کو ختم کرنے کیلئے بظا ہر سارے سامان اور حالات مہیا کر لئے گئے تھے یہاں تک کہ مودودی صاحب نے حضرت امام جماعت احمدیہ بھجوانے کی کوشش کی کہ مخالفت بہت زیادہ ہے اس میں آپ کی جماعت کے بچ جانے کا کو یہ پیغام سوال ہی پیدا نہیں ہو تا بہتر ہو گا کہ آپ اپنے عقائد پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں تبدیل کر لیں۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جنہیں یہ پیغام دیا جا رہا تھا فرمایا کرتے تھے کہ میں نے یہ بات سنتے ہی مودودی صاحب کو جواب دیا کہ یہ پیغام پہنچانے کی کیا ضرورت ہے۔اگر تو یہ جماعت خدا کی جماعت ہے جیسا کہ ہمارا ایمان ہے تو اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا اور اگر آپ کے خیال کے مطابق یہ جھوٹی جماعت ہے تو کل ختم ہونے کی بجائے اس کا آج ہی ختم ہو جانا بہتر ہے۔تاہم مودودی صاحب اور ان کے ہم خیال مصر تھے کہ یہ مخالفت پہلی مخالفتوں جیسی نہیں ہے اس سے جماعت کا عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں ہے۔ان گھمبیر حالات میں خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی سوچ کا انداز کیا تھا؟ آپ فرماتے ہیں۔ان ایام کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں گزار و اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو " خدا کی جماعتوں پر یہ دن آیا کرتے ہیں پس گھبرانے کی بات نہیں اپنے لئے اور اپنے ملک اور حکومت کے لئے دعا کرتے رہو اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ ہو۔" " خدا تعالٰی نے غیر معمولی ثواب کے مواقع آپ کے لئے بہم پہنچائے ہیں اس موقع کو بزدلی اور کمزوری سے جو شخص ضائع کرتا ہے وہ بہت بد بخت آدمی ہے کاش وہ پیدا نہ ہو تاکہ اس کی سیاہی سے دنیا داغدار نہ ہوتی۔" اس موقع پر قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق صبر اور دعا سے کام لیں اور کہنا ہے تو اپنے خدا سے کہیں لوگوں کے سامنے ایسی کوئی بات نہ کریں کہ جس سے اشتعال پیدا ہوا اور فساد کی صورت پیدا ہو کر حکومت کے لئے مشکلات کا موجب ہو۔" فسادات اور شرانگیزی میں غیر معمولی اضافہ ہونے پر حکومت کیلئے بعض احرار لیڈروں کی گرفتاری ناگزیر ہو گئی تو حضور نے اس پر نہ صرف یہ کہ خود کسی خوشی کا اظہار نہ فرمایا بلکہ جماعت کو اخلاق فاضلہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بڑی تاکید سے دشمنوں کی اس تکلیف اور ناکامی پر خوشی کا اظہار کرنے اور لاف و گزاف سے روکنے کے لئے ایک نہایت پر حکمت نصیحت کرتے