سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 335
۳۳۵ ہے۔خدا تعالیٰ لوگوں کے دل تمہاری تائید میں بھر دے گا اور سچائی کو لوگوں پر ظاہر کر دے گا اور یہ مصائب کے بادل فضل کی ہواؤں سے بکھر جائیں گے اور انشاء اللہ تم امن میں آجاؤ گے۔؟ الفضل ۸ اگست ۱۹۵۳ء) مخالفت کی آندھیوں اور فتنہ و فساد کے بگولوں میں آپ جلسہ سالانہ کے ایک خطاب میں آنے والی ترقی اور کامیابی کا نہایت ایمان افروز اور یقین بخش انداز میں زخمی اور رنجیدہ دلوں پر خدائی انعامات کے سکون آفریں پھا ہے رکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے تبلیغی مشنوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں تبلیغ میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور جماعت نے ترقی کی ہے جس مقام پر ہم آج ہیں یقینا گذشتہ سال وہ مقام ہمیں حاصل نہیں تھا اور جس قسم کے تغیرات اس وقت رونما ہو رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جس مقام پر ہم آج ہیں آئندہ سال انشاء اللہ ہم اس سے یقیناً آگے ہوں گے۔یہ تغیرات نہ تمہارے اختیار میں ہیں نہ میرے۔یہ خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں پس انسانی تدابیر کو نہ دیکھو بلکہ خدائی تقدیر کی اُنگلی کو دیکھو جو بتا رہی ہے کہ حالات خواہ اچھے ہوں یا بُرے احمدیت کی گاڑی بہر حال چلتی چلی جائے گی۔انشاء اللہ " تقریر جلسه سالانه ۲ جنوری ۱۹۵۲ء) فتنوں اور شدائد کے مقابلہ پر نہایت روح پرور انداز میں اپنے ایمان ویقین کی پختگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔" خدا تعالیٰ اس جماعت کی مدد کر رہا ہے۔جب دشمن دیکھتا ہے کہ وہ تبلیغ کے ساتھ احمدیت پر غالب نہیں آسکتا تو وہ اشتعال انگیزی شروع کر دیتا ہے لیکن اس سے بنتا کیا ہے۔دشمن کی اشتعال انگیزی سے ہمیں عارضی جسمانی نقصان تو پہنچ سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا اور بڑھتا ہی چلا جائے گا آسمان مل سکتا ہے زمین مل سکتی ہے مگر اس سلسلہ کی دنیا میں اشاعت کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ نہیں مل سکتیں خواہ دنیا کی تمام طاغوتی طاقتیں مل کر بھی اس کے راستہ میں کیوں نہ کھڑی ہو جائیں۔إِنْشَاءَ اللَّهُ وَبِفَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ " الفضل ۱۳۔فروری ۱۹۵۲ء صفحه ۵)