سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 23 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 23

۲۳ اس غرض سے حضور نے مندرجہ ذیل بزرگان جماعت کی ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب ، حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا نامہ احمد صاحب۔حضور کے منشاء اور ہدایات کے مطابق اس کمیٹی نے یہ انتظام کیا کہ نوائے احمدیت کے کپز - تیاری یعنی کپاس کی کاشت وغیرہ بھی حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے ذریعہ ہو۔چنانچہ کپاس کی تیاری ، سوت کی تیاری کپڑے کی تیاری جھنڈے کی تیاری ، جھنڈ الہرانے کے لئے پول کی تیاری تمام کام خوش قسمت صحا مہ اور صحابیات کے ہاتھوں سے مکمل ہوئے۔اس سلسلہ میں جو اخراجات ہوئے وہ بھی صحابہ کے چندہ سے نہیں کئے گئے تھے۔اپنی نوعیت کا منفرد اور نرالا جھنڈا جس کا رنگ سیاہ درمیان میں منارۃ المسیح ایک طرف بدر (پورا چاند ) اور دوسری طرف بلال کی شکل سفید رنگ میں بنائی گئی تھی۔اس جھنڈے کا سائز 8 X 9 اور اس کا پول 2 6 فٹ اونچا پائپ تھا۔روئیداد جلسہ خلافت جوبلی کے مطابق حضور نے یہ تاریخی علم رَبَّنَا تَقَبَّلَ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ کی دعا کی گونج میں قریباً ۲ کے بعد دو پہر لہرایا۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جھنڈے کے ساتھ ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ نے بھی اپنا جھنڈا اتیار کروایا۔یہ جھنڈ ابھی سیاہ رنگ کا تھا اس پر چھ سفید دھاریاں اور اطراف میں سفید رنگ میں بدر اور بلال کا نشان ہے۔یہ جھنڈا بھی حضور نے لوائے احمدیت انے کے بعد اس مجمع میں نہایا۔اس جلسہ پر حضور نے خواتین کا جھنڈا ان کے جلسہ گاہ میں جاکر لہرایا۔یہ جھنڈا پونے چار گز لمبا اور سوا دو گز چوڑا تھا اور اس کے بانس کی اونچائی ۳۵ فٹ تھی۔اس جھنڈے کا رنگ بھی سیاہ تھا اور نقوش لوا۔کے احمد بیت والے ہی تھے۔اس موقع پر حضور نے جھنڈے کی اہمیت و حفاظت کے متعلق خصوصی ہدایات بھی جاری فرمائیں۔اس پر مسرت تقریب پر حضور نے جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کیلئے جو لیا اس کے الفاظ یہ تھے۔"1 میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے۔اسلام اور احمدیت کے قیام اور اس کی اشاعت کیلئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کیلئے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دو سرے سب دیوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو بلکہ دو سرے سب