سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 286 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 286

۲۸۶ ایماء پر ہی جماعتی میمورنڈم پیش کیا گیا۔یہ میمورنڈم حضور کی ذاتی نگرانی میں جماعت کے وکلاء نے تیار کیا اور حضور کی معیت میں کمیشن کے مسلم ممبران کو پیش کرنے سے پہلے دکھایا گیا اور انہوں نے لفظا لفظا پڑھ کر یہ تسلی کرلی کہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو مسلم لیگ کے موقف کو کمزور کرنے والی ہو اس کے بعد یہ میمورنڈم پیش کیا گیا۔یہ میمورنڈم تاریخ کا حصہ ہے اور جماعت کے ریکارڈ میں ہی نہیں سرکاری ریکارڈ میں بھی موجود ہے اس کے مطالعہ سے بھی یہی امر ثابت ہو گا کہ یہ میمورنڈم گورداسپور کو پاکستان میں شامل کرنے کے دلائل پیش کرنے کیلئے کیا گیا تھا نہ کہ اس کے برعکس۔تحریک آزادی کے عروج کے زمانہ میں حضور بعض نہایت ضروری امور کی یادگار سفرد هلی نگرانی اور سرانجام دہی کیلئے دہلی تشریف لے گئے۔اپنے اس اہم سفر کی غرض و غایت اور مقاصد بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔میں نے دہلی کا سفر کیوں کیا۔اس کی وجہ در حقیقت وہ خوابیں تھیں جو الفضل میں چھپ چکی ہیں۔ان خوابوں سے مجھے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ کے حل کو اللہ تعالیٰ نے کچھ میرے ساتھ بھی وابستہ کیا ہوا ہے۔تب میں نے اس خیال سے کہ جب میرے ساتھ بھی اس کا کچھ تعلق ہے تو مجھے سوچنا چاہیئے کہ میں کس رنگ میں کام کر سکتا ہوں۔اس مسئلہ پر غور کیا اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ممکن ہے برطانوی حکومت اس غلطی میں مبتلا ہو کہ اگر مسلم لیگ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہمارے خلاف نہیں ہوگی بلکہ ایسے مسلمان جو لیگ میں شامل نہیں اور ایسی جماعتیں جو لیگ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں ان کو ملا کر وہ ایک منظم حکومت ہندوستان میں قائم کر سکے گی۔اس خیال کے آنے پر میں نے مزید سوچا اور فیصلہ کیا کہ ایسے لوگ جو لیگ میں شامل نہیں یا ایسے لوگ جنہیں تعصب کی وجہ سے لیگ والے اپنے اندر شامل کرنا پسند نہیں کرتے۔ان دونوں قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ آپس میں مل جائیں اور مل کر گورنمنٹ پر یہ واضح کر دیں کہ خواہ ہم لیگ میں نہیں لیکن اگر لیگ کے ساتھ حکومت کا ٹکراؤ ہوا تو ہم اس کو مسلمان قوم کے ساتھ ٹکراؤ سمجھیں گے اور جو جنگ ہوگی اس میں ہم بھی لیگ کے ساتھ شامل ہوں گے۔یہ سوچ کر میں نے چاہا کہ ایسے لوگ جو اثر رکھنے والے ہوں خواہ اپنی ذاتی حیثیت کی وجہ سے اور خواہ قومی حیثیت کی وجہ سے ان کو جمع