سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 281
اپنا استعفیٰ پیش کر دیا اور ساتھ ہی گورنر صاحب کو مشورہ دیا کہ جناب نواب صاحب محروٹ کو بحیثیت قائد مسلم لیگ پارٹی دعوت دی جائے کہ وہ نئی وزارت کی تشکیل کریں۔" جناب ملک صاحب کے استعفاء کا اعلان ریڈیو پر ہو گیا۔مسلم لیگ حلقوں میں اس خبر سے خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور صبح ہوتے ہی شہر بھر میں خضر حیات زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔جناب راجہ غضنفر علی صاحب اور جناب سردار شوکت حیات خان صاحب کی سرکردگی میں بہت سے مسلم لیگ کے سرکردہ اصحاب جناب ملک صاحب کے بنگلے پر تشریف لائے اور ملک صاحب کو مبارک باد دی ، گلے لگایا اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔اس کے بر عکس غیر مسلم حلقوں میں اس خبر سے بہت بے چینی پھیل گئی اور ان کی طرف سے مخالفانہ مظاہرے شروع ہو گئے۔یہ رو صوبے بھر میں پھیل گئی اور بعض مقامات پر فرقہ وارانہ افسوس ناک وارداتیں بھی ہو ئیں میں اسی دن دلی واپس چلا ( تحدیث نعمت صفحه ۳۹۰٬۳۸۳) گیا"۔اس سلسلہ میں مکرم ملک حبیب الرحمن صاحب مرحوم (انسپکٹر تعلیم و ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول) کا مندرجہ ذیل بیان قومی مفاد کیلئے حضور کے غیر معمولی انہماک اور کوششوں کا آئینہ دار ہے۔جب ملک خضر حیات صاحب نے پنجاب کی وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا اور مسلم لیگ کیلئے حکومت بنانا نا ممکن ہو گیا تو حضرت۔۔۔۔۔۔۔نے انہیں کہلا بھیجا کہ وہ مستعفی ہو جائیں اور قوم کے رستہ میں مشکلات پیدا نہ کریں۔انہیں دنوں حضور سندھ تشریف لے جاتے ہوئے جب خانیوال سٹیشن پر پہنچے تو میں وہاں موجود تھا باتوں باتوں میں حضور نے فرمایا کہ میں نے ملک صاحب کو کہلا بھیجا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔امید ہے پرسوں تک اخبارات میں ان کے استعفیٰ کی خبر آجائے گی۔میں نے اس کا ذکر وہاں کے بعض معززین سے کیا۔چنانچہ اس طرح وقوع پذیر ہو ا جس طرح حضور نے فرمایا تھا۔" اس استعفی کے ساتھ قیام پاکستان کے رستہ کی ایک اور بہت بڑی روک دور ہو گئی۔الحمد للہ آل انڈیا کانگریس نے اپنے اجلاس ۴ تا ۸ مارچ ۱۹۴۷ء میں پنجاب کی تقسیم کی قرار داد پاس کی اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو پر بھی یہ اعلان ہوا کہ ایسی تجویز